پیر، 23 اکتوبر، 2017


سیارچے (asteroids)
(دوسری قسط)
سیارچے بنے کیسے ؟
---------------------
آپ اگر سیاروں کا درمیانی فاصلہ نوٹ کریں تو آپ کو مریخ اور مشتری کے درمیان معمول سے زیادہ فاصلہ نظر آے گا .یہی وہ جگہ ہے جہاں asteroid belt پایا جاتا ہے .اصل میں یہاں ایک سیارہ ہونا چاہئیے تھا جس کا مادہ آج بھی ہمیں asteroid belt کی صورت میں نظر آتا ہے مگر جب سیارے بن رہے تھے تو یہ دوڑ میں پیچھے رہ گیا .سیارہ مشتری (jupiter) پہلے ہی بن چکا تھا اور اس نے سیاروں کے بننے پر اثر ڈالا .asteroid belt کے اجسام جب بھی ملنے کی کوشش کرتے مشتری کی کشش ثقل ان کو کھینچ کر علیحدہ کر دیتی .کچھ ماہرین کا خیال ہے کے سیارہ کبھی اپنی ابتدائی شکل میں موجود بھی تھا کیونکہ ہمیں مختلف اقسام کے سیارچے وہاں ملتے ہیں جو کہ سیارے کے بننے کے دوران ارینج ہوے ہوں(یعنی بھاری عناصر مرکز کی طرف اور ہلکے عناصر اوپر کی طرف جمع ہوے ہوں ) لیکن پھر بعد میں کسی حادثے نے انکو علیحدہ کر دیا .نظام شمسی بننے کے ابتدائی دنوں میں مشتری نے اندرون نظام شمسی کا چکّر لگایا تھا .اس کی وجہ خلا میں پھیلے بےہنگم پتھر تھے جو مسلسل مشتری سے ٹکرا رہے تھے .ایک وقت تھا جب مشتری مریخ کے مدار تک آ گیا تھا مگر تب ہی saturn بن گیا جس کی گریوٹی کے زیر اثر مشتری واپس چلا گیا لیکن اس نے سیارچوں میں اتھل پتھل مچا دی تھی جس سے وہاں سیارہ نہ بن سکا
جیسا کہ میں نے پہلے ذکر کیا کہ زمین پر موجود کچھ پانی سیارچے بھی لاے تھے تو وہ مشتری ہی کی بدولت تھا .مشتری ہی اندر آتے ہوے اپنے ساتھ بہت سے سیارچے لایا تھا اور واپس جاتے ہے انہیں یہاں ہی چھوڑ گیا .
مشتری نے نہ صرف ایک سیارے کو بننے سے روکا بلکے اس نے مریخ کا بھی بہت سا مادہ کھا لیا .شاید یہی وجہ ہے کہ وہ اتنا چھوٹا ہے .
سیارچے کو دیکھنے میں پیش آنے والی مشکلات
-------------------------------------------------
سیارچے عام طور پر کالے ہوتے ہیں .اور سپیس کا رنگ بھی کالا ہے لہٰذا کالے background میں کسی کالی چیز کو دیکھنا لگ بھگ ناممکن ہے .
وہ ٹیلیسکوپ سے تب ہی دیکھے جا سکتے ہیں جب ان سے روشنی منعکس ہو کر ہم تک پہنچھے اور جیسا کہ میں نے ذکر کیا کہ زیادہ تر سیارچے کچھ میٹر سے کچھ کلومیٹر تک ہی بڑے ہوتے ہیں تو ان سے ٹکرا کر روشنی پھیل جاتی ہے اور ٹیلیسکوپ تک بہت ہی کم مقدارپہنچ پاتی ہے
سیارچوں کو ڈھونڈھنے اور انکا پاتھ پتہ لگانے کیلئے سپیس گارڈ پروجیکٹ کام کر رہا ہے جوکہ ایک کلومیٹر سے بڑے سیارچوں پر نظر رکھتا ہے جو کہ دنیا کے آربٹ میں آ سکتے ہیں .اچھی خبر یہ ہے کہ اگلی کچھ صدیوں تک اتنا بڑا کوئی سیارچہ جس سے نقصان کا اندیشہ ہو دنیا کے آربٹ میں نہیں آنے والا،
1.آرگنائزیشن B612 نے ناسا کی مدد سے سینٹینل انفراریڈ ٹیلیسکوپ بھیجنے کا پلان بنایا تھا .اس پروجیکٹ میں ایک ٹیلیسکوپ وینس کے آربٹ کے پاس بھیجا جانا تھا جس کو سورج کا چکر لگاتے ہوے زمین کی طرف انفراریڈ کیمرے کر کے سیارچوں کو ڈھونڈنا تھا .یہ ٹیلیسکوپ 140 میٹر سے بڑے ٩٠ فیصد NEO ڈھونڈھنے کی اہلیت رکھتا تھا. یہ پروجیکٹ بجٹ کی کمی اور اپنے محدود کام کی وجہ سے رد کر دیا گیا
2.ناسا نے سینٹینل ٹیلیسکوپ بھیجنے کے بجاے NEO cam پروجیکٹ کو چلانا زیادہ بہتر سمجھا .اس پروجیکٹ میں 50 سینٹی میٹر کے سپیس کرافٹ 2 انفراریڈ کیمروں کے ساتھ بھیجے جائیں گے ،یہ مشن ٢٠٢١ میں لانچ کیا جاے گا
سیارچے اپنا مدار کیوں بدلتے ہیں ؟
-----------------------------------
نظام شمسی کے تمام سیاروں کی رفتار یکساں نہیں ہے لہٰذا کبھی سیارے ایک دوسرے کے پاس آ جاتے ہیں اور کبھی دور چلے جاتے ہیں .اگر چاروں اندرونی پتھریلے سیارے یا ان میں سے کچھ آپس میں align ہو جایں تو انکی مشترکہ کشش ثقل سیارچوں کا راستہ بدل دیتی ہے .یہ سب کشش ثقل کا کھیل ہے وہ مختلف طرح سے اثر انداز ہو کر سیارچوں کا راستہ بدلتی ہے .بعض اوقات سیارچے آپس میں ٹکرانے سے بھی راستہ بدل لیتے ہیں
سیارچوں کی ٹکروں سے بچا کیسے جاے ؟
-------------------------------------------
اگر تو ہم سیارچے کا پتہ کئی مہینوں یا سالوں پہلے لگا لیں تو اس صورت میں درج ذیل اقدامات کیے جا سکتے ہیں
1.تیز رفتار بھاری راکٹ کو سیارچے سے ٹکرا کر اس کی سمت میں کچھ تبدیلی کی جا سکتی ہے .اگر تو سیارچہ کافی دور ہو تو اس صورت میں کچھ ملی میٹر راستہ تبدیل کرنا بھی کافی ہو گا کیونکہ زمین تک پہنچتے پہنچتے وہ کافی ہو جاے گا .
2سیارچے پر نیوکلیائی دھماکے کر کے اس کا کچھ حصّہ تباہ یا اس کی سمت میں ذرا سی تبدیلی کی جا سکتی ہے .(سیارچے پر خلائی جہاز لینڈ کیا جا چکا ہے )
3.چھوٹے چھوٹے شمسی توانائی پر چلنے والے سپیس شپس سے مسلسل لیزر لائٹ کی بوچھاڑ کر کے سیارچے کو توڑا یا اسکا راستہ بدلا جا سکتا ہے
4. کیا ہو اگر ہمیں خبر پہلے نہ ملے اور سیارچہ ہمارے سر پر پھنچ جے ؟ ایسی صورت میں واحد طریقہ اس پر دھماکے کر کے اس کو چھوٹے ٹکڑوں میں تقسیم کرنا ہے .چھوٹے ٹکڑے کم نقصان دہ ہونگے اور بہت سے ہوا میں ہی جل جائیں گے
----------------------------------------------------------------------------------
انسان کا مقام اس کائنات میں بہت چھوٹا ہے .خلا میں اربوں پتھر گھوم رہے ہیں .کوئی بھی پتھر کسی بھی وقت انسان کا خاتمہ کر سکتا ہے .لیکن ہم اپنی عقل کی بدولت ایسے خطرات سے نپٹتے آے ہیں اور مستقبل میں بھی ایسا ہی کریں گے .
بہت سے لوگوں کا خیال ہو گا کے ابھی کوئی خطرہ نہیں تو ابھی ان کاموں پر پیسے خرچ کرنے کا کوئی فائدہ نہیں لیکن ہمیں مستقبل کا سوچنا ہو گا ،آنے والی نسلوں کا سوچنا ہو گا سب سے بڑھ کرانسان کی بقا کا سوچنا ہو گا .
(ابوبکر )

0 تبصرے:

ایک تبصرہ شائع کریں

اردو میں تبصرہ پوسٹ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کر دیں۔