ہم رنگوں کو کیسے پہچانتے ہیں؟
ناصرہ فاروق
گلاب سرخ اور پیلے ہوتے ہیں، اور ہم انہیںاپنی آنکھوں میں موجود مخصوص خلیوں کی وجہ سے پہچان لیتے ہیں۔ جب روشنی کسی شے، مثلاً کیلے پر پڑتی ہے، تو وہ شے روشنی کی کچھ مقدار اپنے اندر جذب کرلیتی ہے اور باقی کو منعکس کر دیتی ہے۔ کس طول موج (wavelength) کے مطابق انعکاس ہوتا ہے اس کا انحصار اس شے پر ہوتا ہے۔ پکے ہوئے کیلے کا طول موج 570سے 580نینومیٹر کا انعکاس ہوتا ہے۔ جب ہم کیلے کو دیکھتے ہیں تو دراصل یہ انعکاس کی طول موج ہوتا ہے جس سے ہمیں پتا چلتا ہے کہ کیلے کا رنگ کون سا ہے۔ یہ انعکاس ہماری آنکھوں کے ریٹینا پر پڑتا ہے جہاں موجود مخصوص خلیے ہمارے دماغ کو یہ بتانے کا کام کرتے ہیں کہ سامنے پڑی شے کا کیا رنگ ہے۔ ہم بہت سے رنگ دیکھتے ہیں۔ ان میں تمیز کر سکتے ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق نارمل بصارتِ رنگ رکھنے والا شخص بے تحاشا (72 لاکھ سے زائد) رنگوں میں تمیز کر سکتا ہے۔ بے شک وہ ان تمام رنگوں کے نام نہیں بتا سکتا لیکن رنگوں کا تعین کرنے میں صفات اور خصوصیات دونوں کا دخل ہوتا ہے۔ رنگ کی صفات کا انحصار طول موج، بصری مہیجات (Stimulus) کی توانائی، شدت اور رنگوں کے مختلف تناسب سے آمیزش پر ہے۔ ان ہی طبیعی خصوصیات کی بنا پر مختلف رنگوں کو دیکھا جاتا ہے۔ آیئے ان عناصر کو ایک مثال سے واضح کرتے ہیں۔ آپ کسی پارٹی میں شریک ہوتے ہیں۔ وہاں مختلف لوگوں نے مختلف رنگوں کے کپڑے پہنے ہوئے ہیں۔ آپ سے کہا جاتا ہے کہ ایک مخصوص جوڑے کے کپڑے کا رنگ بیان کریں۔ آپ کہتے ہیں مسٹر ایف ہلکے سلیٹی مائل نیلے رنگ کے سوٹ میں ملبوس ہیں، اور انہوں نے سرخ ٹائی لگائی ہوئی ہے۔ جبکہ ان کی بیوی نے سرخ رنگ کے مختلف شیڈوں والا دھاری دار لباس پہن رکھا ہے۔ رنگوں کی اس سادہ سی مثال میں آپ دراصل تین اہم خصوصیات یا صفات کی نشان دہی کر رہے ہیں جو کہ لون(Hue)، رنگ سیری (Saturation) اور تابانی (Brightness) پر مبنی ہیں۔ آیئے ان تین صفات کا قدرے تفصیل سے جائزہ لیتے ہیں۔ لون/رنگ (Hue):رنگوں کی صفات کا انحصار بصری مہیج کی ایک اہم خصوصیت لون (رنگ) پر ہے۔ لون سے مراد روشنی کی لہروں کے مختلف طول موج ہیں۔ ان ہی طول امواج کے باعث ہمیں مختلف رنگوں کا احساس ہوتا ہے۔ طول موج بصری مہیج کی طبیعی خصوصیت ہے۔ جبکہ لون اس طبیعی خصوصیت سے پیدا ہونے والی حسی کیفیت ہے۔ مثلاً ہم جب یہ کہتے ہیں کہ فلاں شخص نے سرخ ٹائی اور نیلے رنگ کا سوٹ پہن رکھا ہے تو سرخ رنگ کی ٹائی روشنی کی زیادہ طول موج کو منعکس کر رہی ہے جبکہ نیلے رنگ کا سوٹ روشنی کی کم طول موج کو منعکس کر رہا ہے۔ یعنی رنگوں کے فرق کا احساس طول موج کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے۔ مثلاً سبز رنگ کے لیے طول موج 575 سے لے کر 490 ملی مائکرون یا نینو میٹر ہے۔ سرخ رنگ کے لیے طول موج 720 سے لیے 650 ملی مائکرون یا نینو میٹر ہے۔ جبکہ نیلے رنگ کے لیے 490 ملی مائکرون سے کم ہے۔ اسی طرح باقی تمام رنگوں کے لیے طول موج 385 ملی مائکرون سے زائد اور 760 مائکرون سے کم ہے۔ رنگ سیری (Saturation):رنگ کی بصارت میں دوسری اہم خصوصیت رنگ سیری کی ہے۔ مندرجہ بالا مثال میں جب سرخ رنگ کی ٹائی اور سلیٹی مائل نیلے رنگ کے سوٹ کا ذکر کیا گیا تو یہ دراصل رنگ سیری ہی کا مسئلہ ہے۔ سرخ رنگ (ٹائی) اور سلیٹی مائل نیلے رنگ (سوٹ) میں آنکھوں کو حاصل ہونے والی حسی کیفیات سرخ رنگ کی نسبت کم رنگ سیر ہوں گی۔ اسی طرح دو عورتوں نے ہلکے سرخ اور گہرے سرخ رنگ کے کپڑے پہن رکھے ہیں، تو رنگ کا فرق صرف رنگ سیری کا باعث ہو گا۔ روشنی کی مختلف لہروں کی آمیزش مختلف ہو سکتی ہے۔ اسی آمیزش کے باعث رنگ سیری کا اختلاف بھی ہو سکتا ہے۔ یعنی رنگوں کا ہلکا یا گہرا ہونا دراصل رنگ سیری کا اختلاف ہے۔ تابانی (Brightness):رنگوں کی بصارت میں تیسری اہم خصوصیت تابانی کی ہے۔ مندرجہ ذیل مثال میں عورت کے سرخ دھاری دار شیڈ والے کپڑے ایک ہی لون (رنگ) اور رنگ سیری کے ہونے کے باوجود تابانی کے اعتبار سے مختلف ہونے کے باعث مختلف نظر آتے ہیں۔ اسی طرح ہلکا سلیٹی رنگ اور گہرا سلیٹی رنگ مختلف نظر آتے ہیں۔ آپ نے دیکھا ہو گا کہ جب آپ کسی تیز روشنی میں کپڑے رنگ کر دیکھتے ہیں تو وہ رنگ کی تابانی کے باعث تیز اور خوبصورت نظر آتا ہے۔ لیکن جب آپ دن کی روشنی میں اس رنگ کو دیکھتے ہیں تو وہ خاصا مختلف نظر آتا ہے۔ آپ نے دیکھا ہو گا کہ بہت سے لوگ کپڑا خریدتے وقت اسے باہر سورج کی روشنی میں دیکھتے ہیں تاکہ صحیح تابانی کا اندازہ لگایا جاسکے۔ آمیزشِ رنگ (Colour Mixture): آمیزش رنگ سے مراد رنگوں کا ملاپ ہے یا ان کی آمیزش ہے۔ ہم جان چکے ہیں کہ رنگ یا لون کا انحصار طول موج پر ہے یعنی ہر طول موج ایک مخصوص رنگ کا سبب بنتی ہے۔ رنگوں کی آمیزش کے سلسلے میں سب سے پہلے یہ جاننا ضروری ہے کہ روشنی کی رنگوں کی آمیزش اور عام رنگوں کی آمیزش میں کیا فرق ہے؟ آمیزش رنگ سے مراد رنگوں کا ملاپ ہے یا ان کی آمیزش ہے۔ ہم جان چکے ہیں کہ رنگ یا لون کا انحصار طول موج پر ہے یعنی ہر طول موج ایک مخصوص رنگ کا سبب بنتی ہے۔ رنگوں کی آمیزش کے سلسلے میں سب سے پہلے یہ جاننا ضروری ہے کہ روشنی کی رنگوں کی آمیزش اور عام رنگوں کی آمیزش میں کیا فرق ہے؟ آمیزش کے اصول روشنی (سورج کی روشنی اور مصنوعی روشنی کے لیے مختلف ہیں۔ روشنی کے بنیادی رنگ سرخ، سبز اور نیلے ہیں جبکہ رنگ (pigments) کے پرائمری رنگ سرخ نیلا اور زرد ہیں۔ یعنی سبز رنگ (pigment) میں نہیں پایا جاتا۔ لیکن آپ نے بذات خود تجربہ کیا ہوگا کہ جب آپ کے پاس سبز رنگ نہ ہو آپ واٹر یا آئل کلر میں پیلے اورنیلے کو ملا کر سبز رنگ حاصل کر لیتے ہیں۔ لیکن جب پیلی اور نیلی روشنی کو باہم ملایا جائے تو سبز روشنی حاصل نہیں ہوتی۔ اس کی وجوہات کافی پیچیدہ ہیں۔ بہر حال مذکورہ بالا وہ عوامل ہیں جن کی بنا پر ہم رنگوں میں تفریق کرنے کے قابل ہوتے ہیں۔
ناصرہ فاروق
گلاب سرخ اور پیلے ہوتے ہیں، اور ہم انہیںاپنی آنکھوں میں موجود مخصوص خلیوں کی وجہ سے پہچان لیتے ہیں۔ جب روشنی کسی شے، مثلاً کیلے پر پڑتی ہے، تو وہ شے روشنی کی کچھ مقدار اپنے اندر جذب کرلیتی ہے اور باقی کو منعکس کر دیتی ہے۔ کس طول موج (wavelength) کے مطابق انعکاس ہوتا ہے اس کا انحصار اس شے پر ہوتا ہے۔ پکے ہوئے کیلے کا طول موج 570سے 580نینومیٹر کا انعکاس ہوتا ہے۔ جب ہم کیلے کو دیکھتے ہیں تو دراصل یہ انعکاس کی طول موج ہوتا ہے جس سے ہمیں پتا چلتا ہے کہ کیلے کا رنگ کون سا ہے۔ یہ انعکاس ہماری آنکھوں کے ریٹینا پر پڑتا ہے جہاں موجود مخصوص خلیے ہمارے دماغ کو یہ بتانے کا کام کرتے ہیں کہ سامنے پڑی شے کا کیا رنگ ہے۔ ہم بہت سے رنگ دیکھتے ہیں۔ ان میں تمیز کر سکتے ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق نارمل بصارتِ رنگ رکھنے والا شخص بے تحاشا (72 لاکھ سے زائد) رنگوں میں تمیز کر سکتا ہے۔ بے شک وہ ان تمام رنگوں کے نام نہیں بتا سکتا لیکن رنگوں کا تعین کرنے میں صفات اور خصوصیات دونوں کا دخل ہوتا ہے۔ رنگ کی صفات کا انحصار طول موج، بصری مہیجات (Stimulus) کی توانائی، شدت اور رنگوں کے مختلف تناسب سے آمیزش پر ہے۔ ان ہی طبیعی خصوصیات کی بنا پر مختلف رنگوں کو دیکھا جاتا ہے۔ آیئے ان عناصر کو ایک مثال سے واضح کرتے ہیں۔ آپ کسی پارٹی میں شریک ہوتے ہیں۔ وہاں مختلف لوگوں نے مختلف رنگوں کے کپڑے پہنے ہوئے ہیں۔ آپ سے کہا جاتا ہے کہ ایک مخصوص جوڑے کے کپڑے کا رنگ بیان کریں۔ آپ کہتے ہیں مسٹر ایف ہلکے سلیٹی مائل نیلے رنگ کے سوٹ میں ملبوس ہیں، اور انہوں نے سرخ ٹائی لگائی ہوئی ہے۔ جبکہ ان کی بیوی نے سرخ رنگ کے مختلف شیڈوں والا دھاری دار لباس پہن رکھا ہے۔ رنگوں کی اس سادہ سی مثال میں آپ دراصل تین اہم خصوصیات یا صفات کی نشان دہی کر رہے ہیں جو کہ لون(Hue)، رنگ سیری (Saturation) اور تابانی (Brightness) پر مبنی ہیں۔ آیئے ان تین صفات کا قدرے تفصیل سے جائزہ لیتے ہیں۔ لون/رنگ (Hue):رنگوں کی صفات کا انحصار بصری مہیج کی ایک اہم خصوصیت لون (رنگ) پر ہے۔ لون سے مراد روشنی کی لہروں کے مختلف طول موج ہیں۔ ان ہی طول امواج کے باعث ہمیں مختلف رنگوں کا احساس ہوتا ہے۔ طول موج بصری مہیج کی طبیعی خصوصیت ہے۔ جبکہ لون اس طبیعی خصوصیت سے پیدا ہونے والی حسی کیفیت ہے۔ مثلاً ہم جب یہ کہتے ہیں کہ فلاں شخص نے سرخ ٹائی اور نیلے رنگ کا سوٹ پہن رکھا ہے تو سرخ رنگ کی ٹائی روشنی کی زیادہ طول موج کو منعکس کر رہی ہے جبکہ نیلے رنگ کا سوٹ روشنی کی کم طول موج کو منعکس کر رہا ہے۔ یعنی رنگوں کے فرق کا احساس طول موج کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے۔ مثلاً سبز رنگ کے لیے طول موج 575 سے لے کر 490 ملی مائکرون یا نینو میٹر ہے۔ سرخ رنگ کے لیے طول موج 720 سے لیے 650 ملی مائکرون یا نینو میٹر ہے۔ جبکہ نیلے رنگ کے لیے 490 ملی مائکرون سے کم ہے۔ اسی طرح باقی تمام رنگوں کے لیے طول موج 385 ملی مائکرون سے زائد اور 760 مائکرون سے کم ہے۔ رنگ سیری (Saturation):رنگ کی بصارت میں دوسری اہم خصوصیت رنگ سیری کی ہے۔ مندرجہ بالا مثال میں جب سرخ رنگ کی ٹائی اور سلیٹی مائل نیلے رنگ کے سوٹ کا ذکر کیا گیا تو یہ دراصل رنگ سیری ہی کا مسئلہ ہے۔ سرخ رنگ (ٹائی) اور سلیٹی مائل نیلے رنگ (سوٹ) میں آنکھوں کو حاصل ہونے والی حسی کیفیات سرخ رنگ کی نسبت کم رنگ سیر ہوں گی۔ اسی طرح دو عورتوں نے ہلکے سرخ اور گہرے سرخ رنگ کے کپڑے پہن رکھے ہیں، تو رنگ کا فرق صرف رنگ سیری کا باعث ہو گا۔ روشنی کی مختلف لہروں کی آمیزش مختلف ہو سکتی ہے۔ اسی آمیزش کے باعث رنگ سیری کا اختلاف بھی ہو سکتا ہے۔ یعنی رنگوں کا ہلکا یا گہرا ہونا دراصل رنگ سیری کا اختلاف ہے۔ تابانی (Brightness):رنگوں کی بصارت میں تیسری اہم خصوصیت تابانی کی ہے۔ مندرجہ ذیل مثال میں عورت کے سرخ دھاری دار شیڈ والے کپڑے ایک ہی لون (رنگ) اور رنگ سیری کے ہونے کے باوجود تابانی کے اعتبار سے مختلف ہونے کے باعث مختلف نظر آتے ہیں۔ اسی طرح ہلکا سلیٹی رنگ اور گہرا سلیٹی رنگ مختلف نظر آتے ہیں۔ آپ نے دیکھا ہو گا کہ جب آپ کسی تیز روشنی میں کپڑے رنگ کر دیکھتے ہیں تو وہ رنگ کی تابانی کے باعث تیز اور خوبصورت نظر آتا ہے۔ لیکن جب آپ دن کی روشنی میں اس رنگ کو دیکھتے ہیں تو وہ خاصا مختلف نظر آتا ہے۔ آپ نے دیکھا ہو گا کہ بہت سے لوگ کپڑا خریدتے وقت اسے باہر سورج کی روشنی میں دیکھتے ہیں تاکہ صحیح تابانی کا اندازہ لگایا جاسکے۔ آمیزشِ رنگ (Colour Mixture): آمیزش رنگ سے مراد رنگوں کا ملاپ ہے یا ان کی آمیزش ہے۔ ہم جان چکے ہیں کہ رنگ یا لون کا انحصار طول موج پر ہے یعنی ہر طول موج ایک مخصوص رنگ کا سبب بنتی ہے۔ رنگوں کی آمیزش کے سلسلے میں سب سے پہلے یہ جاننا ضروری ہے کہ روشنی کی رنگوں کی آمیزش اور عام رنگوں کی آمیزش میں کیا فرق ہے؟ آمیزش رنگ سے مراد رنگوں کا ملاپ ہے یا ان کی آمیزش ہے۔ ہم جان چکے ہیں کہ رنگ یا لون کا انحصار طول موج پر ہے یعنی ہر طول موج ایک مخصوص رنگ کا سبب بنتی ہے۔ رنگوں کی آمیزش کے سلسلے میں سب سے پہلے یہ جاننا ضروری ہے کہ روشنی کی رنگوں کی آمیزش اور عام رنگوں کی آمیزش میں کیا فرق ہے؟ آمیزش کے اصول روشنی (سورج کی روشنی اور مصنوعی روشنی کے لیے مختلف ہیں۔ روشنی کے بنیادی رنگ سرخ، سبز اور نیلے ہیں جبکہ رنگ (pigments) کے پرائمری رنگ سرخ نیلا اور زرد ہیں۔ یعنی سبز رنگ (pigment) میں نہیں پایا جاتا۔ لیکن آپ نے بذات خود تجربہ کیا ہوگا کہ جب آپ کے پاس سبز رنگ نہ ہو آپ واٹر یا آئل کلر میں پیلے اورنیلے کو ملا کر سبز رنگ حاصل کر لیتے ہیں۔ لیکن جب پیلی اور نیلی روشنی کو باہم ملایا جائے تو سبز روشنی حاصل نہیں ہوتی۔ اس کی وجوہات کافی پیچیدہ ہیں۔ بہر حال مذکورہ بالا وہ عوامل ہیں جن کی بنا پر ہم رنگوں میں تفریق کرنے کے قابل ہوتے ہیں۔
0 تبصرے:
ایک تبصرہ شائع کریں
اردو میں تبصرہ پوسٹ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کر دیں۔