جمعہ، 13 اکتوبر، 2017


دماغ میں کیمیائی مادوں کی تبدیلی انسان کودہشت گرد بنا دیتی ہے:نئی تحقیق
اسماء نوید
لاس ویگاس میں 59افراد کو موت کا نوالہ بنانے والا اسٹیفن پیڈک خود تو خودکشی کر کے اس دنیا سے چلا گیا ہے مگر اپنے پیچھے سائنسدانوں کو نت نئے تجزیے کرنے کے لیے چھوڑ گیا ہے۔ 5اکتوبر 2017ء کو اسٹیفن پیڈک کے بارے میں سائنس دانوں کی ایک حیرت انگیز تحریر شائع ہوئی ہے جس میں انہوں نے دماغ کے اندر ''ہونے والی کیمیائی تبدیلیوں'' کی وجہ سے اس میںپیدا ہونے والے خوف اور جارحیت کا تجزیہ کیا ہے۔ کچھ لوگوں نے اسے پاگل قرار دیاہے مگر وہ پاگل نہ تھا۔یہ بات سائنس دانوں نے تسلیم نہ کی ۔ اس کے باپ بیجمین ہاکس پڈک کو پاگل قرار دیا گیاتھا۔ اگرچہ اس کے پاگل پن کی کوئی وجہ، کوئی علامت ، رپورٹ یا ٹیسٹ وغیرہ ہمارے سامنے موجود نہیں ہیں ، لیکن مختلف خبروں میں اس کے باپ کو شیزو فرینیا کا مریض قرار دیا گیا ہے۔ 64سالہ بوڑھے پڈک کا شیزو فرینیا میں مبتلا ہونا حیران کن ہے۔ وہ شیزوفرینیا کا مریض ہو ہی نہیں سکتا۔یہ مرض باپ سے بیٹوں میں منتقل ہو سکتا ہے،لیکن یہ عمومی طور پر بچپن یا لڑکپن میں ہوتا ہے ۔ پھراس نے دہشت گردی سے پہلے اپنی ماں کو مٹھائی بھیجی۔کوئی پاگل مٹھائیوں کی ٹوکری نہیں بھیجاکرتا۔ البتہ دو طلاقیں اس کے ''پاگل پن'' کی تصدیق کرتی ہیں۔ کچھ لوگوں نے ہنستے ہوئے کہا کہ'' وہ دماغی طور پر صحت مند تھاتب ہی تو طلاقیں ہوئیں!'' کسی چیز سے پڈک کے پاگل پن کی تصدیق نہیں ہوتی۔ محلے داروں نے بھی اسے صحت مند قرار دیا ہے۔ اب ذرا پڑھتے ہیں کہ سائنس دان کیا کہتے ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ 50 سال قبل جس شخص نے متعدد لوگوں کو موت کی نیند سلا دیا تھا، اس کے دماغ میں اسی قسم کی تبدیلیاں رونما ہوئی تھیں جس قسم کی لاس ویگاس کے دہشت گرد کے دماغ میں رونما ہوئیں۔ اس وقت چارلس وٹمین نامی شخص نے ٹیکساس یونیورسٹی کے ٹاور پر چڑھ کے ،فائرنگ سے 16لوگ مار دئیے تھے۔ وٹمین کی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں لکھا تھا کہ وہ Amygdla نامی مرض میں مبتلا ہے۔ یہ مرض انسان کے اندر'' خوف اور جارحیت'' پیدا کرتاہے۔ سائنس دانوںکے مطابق اسی قسم کی ''کیمیائی تبدیلیاں'' پیڈک کے ذہن میں بھی ہو رہی تھیں۔یعنی بقول سائنس دان، ان دونوں دہشت گردوںکے دماغ میں ''لوچا'' تھا۔اس کے دماغ میں ٹیومر پیدا ہونا خار ج از امکان ہے لیکن کیمیائی تبدیلی کے عمل کو خارج امکان قرار نہیں دیا جا سکتا۔ دماغ میں ہونے والی تبدیلی کردار پر اثر انداز ہوتی ہے۔اس ''سوزش'' سے دماغ میں کئی طرح کی تبدیلیاں ہو سکتی ہیں۔ جن میں سے ایک قابل ذکر تبدیلی کو ''فرنٹو۔ ٹیمپورل لیبر ڈی جنریشن'' (یعنی FTLD (کہا جاتا ہے۔ نام ذرا لمبا ہے لیکن پورا لکھے بغیر اس کی تشریح ممکن نہیں۔ فرنٹل اور ٹیمپورل، یہ دماغ کے دو حصے ہیں۔ ان دونوں حصوں میں دو لوبز ہوتے ہیں ۔' جذبا ت' اور 'فیصلہ' کرنے کی طاقت ان دو حصوں میں بھی ہوتی ہے۔ ان کے متاثر ہونے سے فیصلہ کرنے کی صلاحیت اور جذبات میں اتار چڑھائو پیدا ہوسکتا ہے ۔ انہی حصوں کے متاثر ہونے سے ڈی مینشیا اور الزائمر کے امراض پیدا ہوتے ہیں۔ اس کے مریض پر کبھی جارحیت حاوی ہو جاتی ہے تو کبھی وہ خوفزدہ رہنے لگتا ہے۔ کبھی کبھی وہ خوف کی وجہ سے جارحیت کا ارتکاب کرتا ہے۔ یہ مرض عام طور پر 50 سال کی عمر کے بعد لاحق ہوتا ہے ۔ایسے مریض دوسروں کے بارے میں جلدی جذباتی ہو جاتے ہیں۔ وہ عام لوگوں سے مختلف رویے کا اظہار کرتے ہیں۔اس مرض میں دماغ کا ایک اور حصہ بھی متاثر ہوتا ہے جسے ''وینٹرومیڈیکل پری فرنٹل کار ٹیکس ''کہاجاتا ہے۔ یہ حصہ بھی دوسروں کے بارے میں جذبات سے تعلق رکھتا ہے۔پتہ نہیں، پیڈک کے دماغ میںہونے والی ان تبدیلیوں کو اس کے ہمسائیوں یا گرل فرینڈز نے محسوس کیاتھا یا نہیں۔بظاہر ان ''دماغی تبدیلیوں'' نے اس میں جارحیت پیدا کی۔ورنہ وہ منشیات اور ادویات کا عادی نہ تھا ۔ طبی دوائیں بھی کم ہی لیتا تھا ، فرنٹل ڈی مینشیا کا مریض بھی نہ تھا ۔ تاہم اتنا بڑاقدم اس نے کس وجہ سے اٹھایا؟ یہ تاحال تشنہ ہے۔ یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ اس نے خود پر جو گولی چلائی، اس سے دماغ متاثر ہوا یا نہیں۔ ان کی مدد سے ان سائنسی خطوط پر بھی تجزیہ کیا جارہا ہے۔ ان سوالات کا جواب پوسٹمارٹم رپورٹ کے بعد ہی ملے گا۔ ذرا دیکھئے، کس خوبصورتی سے امریکہ نے اپنے دو دہشت گردوں کو ''دماغی مریض'' کہہ کر جان چھڑا لی۔ یہ دماغی مریض صرف امریکہ میں ہی کیوں پیدا ہوتے ہیں ؟وہ افغانستان یا فاٹا میں کیوں پیدا نہیں ہوسکتے؟

0 تبصرے:

ایک تبصرہ شائع کریں

اردو میں تبصرہ پوسٹ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کر دیں۔