اسٹار ٹریک اور دوسری سائنسی کہانیوں میں دکھایا جانے والا ٹرانسپورٹر لوگوں اور اجسام کو خلاء میں وسیع فاصلوں پر چشم زدن میں پہنچا دیتا ہے۔ لیکن جیسا للچا دینے والا دکھائی دیتا ہے ایسا ہے نہیں کیونکہ طبیعیات دانوں نے تو اس خیال کو شروع سے ہی آڑے ہاتھوں لینا شروع کر دیا کیونکہ یہ اصول عدم یقین سے انحراف کرتا ہے۔ جوہر کی پیمائش کرنے سے اس کی حالت بدل جاتی ہے لہٰذا اس کی بالکل درست نقل نہیں کی جا سکتی۔
لیکن سائنس دانوں نے اس دلیل میں ایک ١٩٣٣ء میں کوانٹم الجھاؤ کے ذریعہ ایک نقص پا لیا۔ اس کی بنیاد اسی آئن سٹائن کے پرانے تجربے پر رکھی گئی تھی جس کو آئن سٹائن نے ١٩٣٥ء میں اپنے رفیق بورس پوڈولسکی اور ناتھن روزن کے ساتھ مل کر پیش کیا تھا (جس کو ای پی آر تناقض کہتے ہیں)۔ اس تجربے کا مقصد کوانٹم نظریئے کے پاگل پن کو بیان کرنا تھا۔ فرض کریں کہ ایک دھماکہ ہوتا ہے، اور اس میں سے دو الیکٹران ایک دوسرے سے جدا ہو کر مخالف سمت میں روشنی کی رفتار سے سفر کرتے ہوئے چلے جاتے ہیں۔ کیونکہ الیکٹران لٹو کی طرح گھومتے ہیں، لہٰذا یہ فرض کریں کہ ان کا گھماؤ بھی ایک دوسرے سے تعلق رکھتا ہے۔ یعنی کہ اگر ایک الیکٹران کا گھماؤ اس کے محور سے اوپر کی طرف ہے تو دوسرے الیکٹران کا گھماؤ نیچے کی طرف ہوگا (یعنی کہ کل گھماؤ صفر ہوگا)۔ اس سے پہلے کہ ہم اس کی پیمائش کریں ، ہم نہیں جانتے کہ دونوں الیکٹران کس طرف گھوم رہے ہیں۔
آب کچھ برس تک انتظار کریں۔ اس وقت تک دونوں الیکٹران ایک دوسرے سے کئی نوری برس کے فاصلے پر موجود ہوں گے۔ اب اگر ہم ایک الیکٹران کے گھماؤ کی پیمائش کرتے ہیں اور ہمیں یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس کا گھماؤ محور سے اوپر کی طرف ہے، تو ہمیں فی الفور معلوم ہو جاتا ہے کہ دوسرا الیکٹران نیچے کی جانب گھوم رہا ہے ( اور اسی طرح اس کے برعکس بھی ہو سکتا ہے )۔ اصل میں جو الیکٹران اوپر کی جانب گھومتا ہوا پایا گیا ہے وہ دوسرے الیکٹران کو مجبور کر دے گا کہ وہ نیچے کی طرف گھومے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ ہمیں کوئی ایسی چیز فی الفور معلوم ہو گئی جو کئی نوری برس دور موجود ہے۔
مزید پڑھیں:
http://www.jahanescience.com/…/Parallel.Worlds.Chapter.6.11…
#جہان_سائنس #اردو #سائنس #ترجمہ #میچیو_کاکو #متوازی_دنیائیں #متوازی_کائناتیں #طبیعیات #فلکیات
#jahanescience
لیکن سائنس دانوں نے اس دلیل میں ایک ١٩٣٣ء میں کوانٹم الجھاؤ کے ذریعہ ایک نقص پا لیا۔ اس کی بنیاد اسی آئن سٹائن کے پرانے تجربے پر رکھی گئی تھی جس کو آئن سٹائن نے ١٩٣٥ء میں اپنے رفیق بورس پوڈولسکی اور ناتھن روزن کے ساتھ مل کر پیش کیا تھا (جس کو ای پی آر تناقض کہتے ہیں)۔ اس تجربے کا مقصد کوانٹم نظریئے کے پاگل پن کو بیان کرنا تھا۔ فرض کریں کہ ایک دھماکہ ہوتا ہے، اور اس میں سے دو الیکٹران ایک دوسرے سے جدا ہو کر مخالف سمت میں روشنی کی رفتار سے سفر کرتے ہوئے چلے جاتے ہیں۔ کیونکہ الیکٹران لٹو کی طرح گھومتے ہیں، لہٰذا یہ فرض کریں کہ ان کا گھماؤ بھی ایک دوسرے سے تعلق رکھتا ہے۔ یعنی کہ اگر ایک الیکٹران کا گھماؤ اس کے محور سے اوپر کی طرف ہے تو دوسرے الیکٹران کا گھماؤ نیچے کی طرف ہوگا (یعنی کہ کل گھماؤ صفر ہوگا)۔ اس سے پہلے کہ ہم اس کی پیمائش کریں ، ہم نہیں جانتے کہ دونوں الیکٹران کس طرف گھوم رہے ہیں۔
آب کچھ برس تک انتظار کریں۔ اس وقت تک دونوں الیکٹران ایک دوسرے سے کئی نوری برس کے فاصلے پر موجود ہوں گے۔ اب اگر ہم ایک الیکٹران کے گھماؤ کی پیمائش کرتے ہیں اور ہمیں یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس کا گھماؤ محور سے اوپر کی طرف ہے، تو ہمیں فی الفور معلوم ہو جاتا ہے کہ دوسرا الیکٹران نیچے کی جانب گھوم رہا ہے ( اور اسی طرح اس کے برعکس بھی ہو سکتا ہے )۔ اصل میں جو الیکٹران اوپر کی جانب گھومتا ہوا پایا گیا ہے وہ دوسرے الیکٹران کو مجبور کر دے گا کہ وہ نیچے کی طرف گھومے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ ہمیں کوئی ایسی چیز فی الفور معلوم ہو گئی جو کئی نوری برس دور موجود ہے۔
مزید پڑھیں:
http://www.jahanescience.com/…/Parallel.Worlds.Chapter.6.11…
#جہان_سائنس #اردو #سائنس #ترجمہ #میچیو_کاکو #متوازی_دنیائیں #متوازی_کائناتیں #طبیعیات #فلکیات
#jahanescience
0 تبصرے:
ایک تبصرہ شائع کریں
اردو میں تبصرہ پوسٹ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کر دیں۔