کیا کوئی ایسی حد ہے جسے ہم کبھی پار نہیں کر پائیں گے؟ قطع نظر اس سے کہ ہم کتنی ہی کوشش کریں کیا کچھ ایسی جگہیں ہے جہاں ہم کبھی نہیں پہنچ پائیں گے ؟
جی ہاں وہ موجود ہیں. حتی کہ سائنس فکشن ٹیکنالوجی سے بھی ہم کائنات کے ایک مخصوص حصے میں قید ہیں. ایسا کیسے ہو سکتا ہے؟ اور ہم کتنی دور تک جاسکتے ہیں؟
ہم اوسط سائز کی کہکشاں ملکی وے کے کنارے پر رہتے ہیں جس میں اربوں ستارے ،سیارے گیس کے بادل ڈارک میٹر بلیک ہول نیوٹران سٹارز اور درمیان میں موجود ایک بڑا سپر میسو بلیک ہول ہے
دور سے ہماری کہکشاں کافی بھری ہوی لگتی ہے لیکن یہ زیادہ تر خالی سپیس ہی ہے .اپنی موجودہ ٹیکنالوجی سے انسان کو قریب ترین ستارے پر بھیجنےمیں بھی ہزاروں سال لگیں گے .یعنی ہماری کہکشاں بہت بڑی ہے .
ملکی وے اکیلی نہیں بلکہ ملکی وے انڈرومیڈااور 52 دوسری بونی (dwarf) کہکشاؤں سمیت یہ لوکل گروپ کا حصّہ ہے .لوکل گروپ 10 ملین نوری سال پر پھیلا کائنات کا حصّہ ہے .لوکل گروپ اور اس جیسے سینکڑوں گروپ مل کر لینیاکیا (Laniakea) سپر کلسٹر بناتے ہیں .لینیاکیا سپرکلسٹر بھی اپنے جیسے کیی ملین سپر کلسٹرز میں سے ایک ہے .جو مل کر قابل مشاہدہ کائنات بناتے ہیں .
اب چلیں فرض کریں کے انسان کا مستقبل روشن ہے،وہ ایلینز کے حملوں سے مارا نہیں جاتا وہ فزکس کی اپنی موجودہ سمجھ کے بنیاد پرستاروں کے درمیان سفر ممکن بنا لیتا ہے اور وہ ٹائپ تھری کی تہذیب بن جاتا ہے .اس سب منظر نامے کی بنیاد پربھی آخر وہ کتنی دور جا سکتا ہے ؟....."صرف لوکل گروپ تک" .
یہ کائنات کا وہ علاقہ ہے جہاں تک انسان کبھی مستقبل میں پہنچ پاے گا .یہ انسان کی حد ہے .بےشک یہ ایک بڑا علاقہ ہے لیکن قابل مشاہدہ کائنات کا یہ صرف 0.00000000001 فیصد حصّہ ہے .ذرا اس نمبر کو اپنے دماغ میں بیٹھنے دیں .ہم قابل مشاہدہ کائنات کے 100 اربویں فیصد حصّے تک محدود ہیں .یہ ایک سادہ حقیقت ہے کہ ہمارے لیے بھی ایک حد ہے .یہ ایک عجیب اور خوفناک بات لگتی ہے کہ چاہے کتنی ہی کوشش کر لیں کائنات کے بہت سے حصّے تک کبھی ہم پہنچ ہی نہیں پائیں گے .
کیا وجہ ہے کہ مزید آگے ہم نہیں جا سکتے ؟اس کا جواب خلاء کی فطرت میں ہے .کچھ نہیں یعنی خلاء بھی مکمل خالی نہیں ہوتی .بلکہ اس کے پاس اسکی اپنی توانائی ہوتی ہے جسے ہم کوانٹم fluctuations کہتے ہیں .چھوٹے پیمانے پر یہ ایک مسلسل عمل ہے کہ پارٹیکل اور انٹی پارٹیکل وجود میں آتے ہیں اور پھر مل کر فنا ہو جاتے ہیں
چلیں اب 13.8 ارب سال پیچھے چلتے ہیں جب سپیس کے فیبرک میں واقعی کچھ نہیں تھا .بگ بینگ کے فورا بعد ہونے والے عمل جسے ہم کاسمک انفلیشن کہتے ہیں .قابل مشاہدہ کائنات ایک سیکنڈ کے کچھ حصّے میں ہی ایک ماربل کےسائز سے پھیل کر کیی ٹریلین کلومیٹر کی ہوگئی.کائنات کا یہ اچانک پھیلاؤ اتنا تیزاور شدید تھا کہ کوانٹم fluctuations بھی پھیل گیں اور ایٹم سے چھوٹے فاصلے بھی کہکشاؤں کے درمیانی فاصلوں جتنے ہو گئے جن میں گھنے اور کم گھنے علاقے تھے .انفلیشن کے بعد کشش ثقل نے سب کچھ واپس کھینچنا شروع کر دیا .بڑے پیمانے پر پھیلاؤ اتنا شدید تھا کہ کشش ثقل کیلئے اسکو قابو کرنا بہت مشکل تھا جبکہ چھوٹے پیمانے پر کشش ثقل فاتح کے طور پر سامنے آی .تو وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ کائنات کے گھنے علاقے کہکشاؤں کے گروپوں میں بدل گئے .جیسا کہ وہ جس میں آج ہم رہتے ہیں یعنی لوکل گروپ .لوکل گروپ ہمارے ساتھ کشش ثقل کے ذریعے جڑا ہوا ہے .
تو کیا وجہ ہے کہ ہم لوکل گروپ سے نکل کر کسی دوسرے گروپ میں نہیں جا سکتے ؟یہ ڈارک انرجی یعنی تاریک توانائی ہے جو ہر چیز کو پیچیدہ بنا دیتی ہے .تاریک توانائی بنیادی طور پرایک چھپی ہوی طاقت یا اثر ہے جو کائنات کو پھیلاتی ہے اور اسکی رفتارمسلسل اضافہ کر رہی ہے .ہم نہیں جانتے کے ڈارک انرجی کیوں یا کیا ہے لیکن ہم اس کے اثرات واضح طور پر دیکھ سکتے ہیں
ہم بہت سی چیزوں سے گھرے ہوے ہیں لیکن ان میں سے کوئی بھی کہکشائیں یا دیگر اجسام ہمارےساتھ یعنی لوکل گروپ کے ساتھ کشش ثقل کے زیر اثر جڑے نہیں ہوے نتیجتا جیسے جیسے کائنات پھیلتی جا رہی ہے لوکل گروپ اور دوسرے کہکشاؤں کے گروپوں کے درمیان فاصلہ بڑھتا جارہا ہے .وقت کے ساتھ ساتھ ڈارک انرجی لوکل گروپ کے علاوہ تمام کائنات ہم سے دور دھکیل دے گی نتیجتا باقی تمام کلسٹرز ،کہکشائیں اور کہکشاؤں کے گروپ ہماری پہنچ سے مکمل باہر ہو جائیں گے .ہمارا قریبی کہکشاں کا گروپ پہلے ہی ہم سے کیی ملین نوری سال دور ہے .سب کچھ ہم سے اس رفتار سے دور جا رہا ہے جس کو حاصل کرنے کی ہم کبھی امید نہیں رکھتے .ہم لوکل گروپ کو چھوڑ کر کہکشاؤں کی درمیانی سپیس میں سفر تو کر سکتے ہیں لیکن ہم کبھی کہیں پہنچیں گے نہیں
یہ اور مایوس کن تب ہو جاتا ہے جب ہمیں پتا چلتا ہے کہ لوکل گروپ کے علاوہ کہکشائیں وقت کے ساتھ ساتھ ہم سے اتنی دور چلی جائیں گی کے انکو ڈٹیکٹ کرنا ہی مشکل ہو جاے گا .اس دور کی کہکشاؤں سے نکلتے کچھ فوٹان جو ہم تک پہنچیں گے وہ بھی اتنی زیادہ wavelength کے ہو چکے ہونگے کہ انکو ڈٹیکٹ کرنا ممکن نہ ہو گا .جب ایسا ہو جاے گا تب لوکل گروپ کے باھر کی کوئی انفارمیشن ہم تک نہیں پہنچ پاے گی ،کائنات ہمیشہ کیلئے ہماری نگاہوں سے اوجھل ہو جاے گی اور ہمیں ہر طرف خالی خلاء اور اندھیرا ہی نظر آے گا .
جو لوگ اس وقت میں پیدا ہونگے وہ سوچیں گے کہ انکی کہکشاں ہی سب کچھ یعنی پوری کائنات ہے .اس کے علاوہ کچھ نہیں .جب وہ خالی سپیس میں دور تک دیکھیں گے تو وہ خلاء اور اندھیرے کے سوا کچھ نہیں پائیں گے .وہ نہ ہی کاسمک بیک گراؤنڈ radiations دیکھ پائیں گے اور نہ ہی بگ بینگ کے متعلق جان پائیں گے .ان کے پاس وہ جاننے کا جو ہم آج جانتے ہیں کوئی راستہ نہ ہو گا .وہ کائنات کے پھیلاؤ،اس کی شروعات اور اس کے اختتام کے متعلق نہیں جان پائیں گے.وہ سوچیں گے کہ کائنات رکی ہوی ہے اور ہمیشہ سے ہے
پھر بھی لوکل گروپ کوئی چھوٹا علاقہ نہیں ہے اس میں کیی ٹریلین ستارے ہیں .یہ انسان کیلئے کافی جگہ ہے .مستقبل میں انسان کے پاس نظام شمسی کو چھوڑنے کا طریقہ ہو گا اور اور کہکشاوں کو ایکسپلور کرنے کیلئے کیی ارب سال ہونگے
ہماری قسمت ناقابل یقین حد تک اچھی ہے کہ ہم ایسے وقت میں پیدا ہوے جب ہم نا صرف اپنے ماضی میں جھانک سکتے ہیں بلکہ مستقبل بعید بھی دیکھ سکتے .ہیں ہم کائنات میں جھانک سکتے ہیں اور قدرت کے رازوں سے پردہ اٹھا سکتے ہیں
ایک ویڈیو کا ترجمہ ہلکی پھلکی تبدیلی کے ساتھ .
(ابوبکر)
جی ہاں وہ موجود ہیں. حتی کہ سائنس فکشن ٹیکنالوجی سے بھی ہم کائنات کے ایک مخصوص حصے میں قید ہیں. ایسا کیسے ہو سکتا ہے؟ اور ہم کتنی دور تک جاسکتے ہیں؟
ہم اوسط سائز کی کہکشاں ملکی وے کے کنارے پر رہتے ہیں جس میں اربوں ستارے ،سیارے گیس کے بادل ڈارک میٹر بلیک ہول نیوٹران سٹارز اور درمیان میں موجود ایک بڑا سپر میسو بلیک ہول ہے
دور سے ہماری کہکشاں کافی بھری ہوی لگتی ہے لیکن یہ زیادہ تر خالی سپیس ہی ہے .اپنی موجودہ ٹیکنالوجی سے انسان کو قریب ترین ستارے پر بھیجنےمیں بھی ہزاروں سال لگیں گے .یعنی ہماری کہکشاں بہت بڑی ہے .
ملکی وے اکیلی نہیں بلکہ ملکی وے انڈرومیڈااور 52 دوسری بونی (dwarf) کہکشاؤں سمیت یہ لوکل گروپ کا حصّہ ہے .لوکل گروپ 10 ملین نوری سال پر پھیلا کائنات کا حصّہ ہے .لوکل گروپ اور اس جیسے سینکڑوں گروپ مل کر لینیاکیا (Laniakea) سپر کلسٹر بناتے ہیں .لینیاکیا سپرکلسٹر بھی اپنے جیسے کیی ملین سپر کلسٹرز میں سے ایک ہے .جو مل کر قابل مشاہدہ کائنات بناتے ہیں .
اب چلیں فرض کریں کے انسان کا مستقبل روشن ہے،وہ ایلینز کے حملوں سے مارا نہیں جاتا وہ فزکس کی اپنی موجودہ سمجھ کے بنیاد پرستاروں کے درمیان سفر ممکن بنا لیتا ہے اور وہ ٹائپ تھری کی تہذیب بن جاتا ہے .اس سب منظر نامے کی بنیاد پربھی آخر وہ کتنی دور جا سکتا ہے ؟....."صرف لوکل گروپ تک" .
یہ کائنات کا وہ علاقہ ہے جہاں تک انسان کبھی مستقبل میں پہنچ پاے گا .یہ انسان کی حد ہے .بےشک یہ ایک بڑا علاقہ ہے لیکن قابل مشاہدہ کائنات کا یہ صرف 0.00000000001 فیصد حصّہ ہے .ذرا اس نمبر کو اپنے دماغ میں بیٹھنے دیں .ہم قابل مشاہدہ کائنات کے 100 اربویں فیصد حصّے تک محدود ہیں .یہ ایک سادہ حقیقت ہے کہ ہمارے لیے بھی ایک حد ہے .یہ ایک عجیب اور خوفناک بات لگتی ہے کہ چاہے کتنی ہی کوشش کر لیں کائنات کے بہت سے حصّے تک کبھی ہم پہنچ ہی نہیں پائیں گے .
کیا وجہ ہے کہ مزید آگے ہم نہیں جا سکتے ؟اس کا جواب خلاء کی فطرت میں ہے .کچھ نہیں یعنی خلاء بھی مکمل خالی نہیں ہوتی .بلکہ اس کے پاس اسکی اپنی توانائی ہوتی ہے جسے ہم کوانٹم fluctuations کہتے ہیں .چھوٹے پیمانے پر یہ ایک مسلسل عمل ہے کہ پارٹیکل اور انٹی پارٹیکل وجود میں آتے ہیں اور پھر مل کر فنا ہو جاتے ہیں
چلیں اب 13.8 ارب سال پیچھے چلتے ہیں جب سپیس کے فیبرک میں واقعی کچھ نہیں تھا .بگ بینگ کے فورا بعد ہونے والے عمل جسے ہم کاسمک انفلیشن کہتے ہیں .قابل مشاہدہ کائنات ایک سیکنڈ کے کچھ حصّے میں ہی ایک ماربل کےسائز سے پھیل کر کیی ٹریلین کلومیٹر کی ہوگئی.کائنات کا یہ اچانک پھیلاؤ اتنا تیزاور شدید تھا کہ کوانٹم fluctuations بھی پھیل گیں اور ایٹم سے چھوٹے فاصلے بھی کہکشاؤں کے درمیانی فاصلوں جتنے ہو گئے جن میں گھنے اور کم گھنے علاقے تھے .انفلیشن کے بعد کشش ثقل نے سب کچھ واپس کھینچنا شروع کر دیا .بڑے پیمانے پر پھیلاؤ اتنا شدید تھا کہ کشش ثقل کیلئے اسکو قابو کرنا بہت مشکل تھا جبکہ چھوٹے پیمانے پر کشش ثقل فاتح کے طور پر سامنے آی .تو وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ کائنات کے گھنے علاقے کہکشاؤں کے گروپوں میں بدل گئے .جیسا کہ وہ جس میں آج ہم رہتے ہیں یعنی لوکل گروپ .لوکل گروپ ہمارے ساتھ کشش ثقل کے ذریعے جڑا ہوا ہے .
تو کیا وجہ ہے کہ ہم لوکل گروپ سے نکل کر کسی دوسرے گروپ میں نہیں جا سکتے ؟یہ ڈارک انرجی یعنی تاریک توانائی ہے جو ہر چیز کو پیچیدہ بنا دیتی ہے .تاریک توانائی بنیادی طور پرایک چھپی ہوی طاقت یا اثر ہے جو کائنات کو پھیلاتی ہے اور اسکی رفتارمسلسل اضافہ کر رہی ہے .ہم نہیں جانتے کے ڈارک انرجی کیوں یا کیا ہے لیکن ہم اس کے اثرات واضح طور پر دیکھ سکتے ہیں
ہم بہت سی چیزوں سے گھرے ہوے ہیں لیکن ان میں سے کوئی بھی کہکشائیں یا دیگر اجسام ہمارےساتھ یعنی لوکل گروپ کے ساتھ کشش ثقل کے زیر اثر جڑے نہیں ہوے نتیجتا جیسے جیسے کائنات پھیلتی جا رہی ہے لوکل گروپ اور دوسرے کہکشاؤں کے گروپوں کے درمیان فاصلہ بڑھتا جارہا ہے .وقت کے ساتھ ساتھ ڈارک انرجی لوکل گروپ کے علاوہ تمام کائنات ہم سے دور دھکیل دے گی نتیجتا باقی تمام کلسٹرز ،کہکشائیں اور کہکشاؤں کے گروپ ہماری پہنچ سے مکمل باہر ہو جائیں گے .ہمارا قریبی کہکشاں کا گروپ پہلے ہی ہم سے کیی ملین نوری سال دور ہے .سب کچھ ہم سے اس رفتار سے دور جا رہا ہے جس کو حاصل کرنے کی ہم کبھی امید نہیں رکھتے .ہم لوکل گروپ کو چھوڑ کر کہکشاؤں کی درمیانی سپیس میں سفر تو کر سکتے ہیں لیکن ہم کبھی کہیں پہنچیں گے نہیں
یہ اور مایوس کن تب ہو جاتا ہے جب ہمیں پتا چلتا ہے کہ لوکل گروپ کے علاوہ کہکشائیں وقت کے ساتھ ساتھ ہم سے اتنی دور چلی جائیں گی کے انکو ڈٹیکٹ کرنا ہی مشکل ہو جاے گا .اس دور کی کہکشاؤں سے نکلتے کچھ فوٹان جو ہم تک پہنچیں گے وہ بھی اتنی زیادہ wavelength کے ہو چکے ہونگے کہ انکو ڈٹیکٹ کرنا ممکن نہ ہو گا .جب ایسا ہو جاے گا تب لوکل گروپ کے باھر کی کوئی انفارمیشن ہم تک نہیں پہنچ پاے گی ،کائنات ہمیشہ کیلئے ہماری نگاہوں سے اوجھل ہو جاے گی اور ہمیں ہر طرف خالی خلاء اور اندھیرا ہی نظر آے گا .
جو لوگ اس وقت میں پیدا ہونگے وہ سوچیں گے کہ انکی کہکشاں ہی سب کچھ یعنی پوری کائنات ہے .اس کے علاوہ کچھ نہیں .جب وہ خالی سپیس میں دور تک دیکھیں گے تو وہ خلاء اور اندھیرے کے سوا کچھ نہیں پائیں گے .وہ نہ ہی کاسمک بیک گراؤنڈ radiations دیکھ پائیں گے اور نہ ہی بگ بینگ کے متعلق جان پائیں گے .ان کے پاس وہ جاننے کا جو ہم آج جانتے ہیں کوئی راستہ نہ ہو گا .وہ کائنات کے پھیلاؤ،اس کی شروعات اور اس کے اختتام کے متعلق نہیں جان پائیں گے.وہ سوچیں گے کہ کائنات رکی ہوی ہے اور ہمیشہ سے ہے
پھر بھی لوکل گروپ کوئی چھوٹا علاقہ نہیں ہے اس میں کیی ٹریلین ستارے ہیں .یہ انسان کیلئے کافی جگہ ہے .مستقبل میں انسان کے پاس نظام شمسی کو چھوڑنے کا طریقہ ہو گا اور اور کہکشاوں کو ایکسپلور کرنے کیلئے کیی ارب سال ہونگے
ہماری قسمت ناقابل یقین حد تک اچھی ہے کہ ہم ایسے وقت میں پیدا ہوے جب ہم نا صرف اپنے ماضی میں جھانک سکتے ہیں بلکہ مستقبل بعید بھی دیکھ سکتے .ہیں ہم کائنات میں جھانک سکتے ہیں اور قدرت کے رازوں سے پردہ اٹھا سکتے ہیں
ایک ویڈیو کا ترجمہ ہلکی پھلکی تبدیلی کے ساتھ .
(ابوبکر)
0 تبصرے:
ایک تبصرہ شائع کریں
اردو میں تبصرہ پوسٹ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کر دیں۔