ہفتہ، 21 اکتوبر، 2017


آج چوتھی جہت کے اسرار اور حکمت ایک بالکل ہی نئی وجہ سے ظاہر ہو رہے ہیں یعنی کہ اسٹرنگ نظرئیے کی تخلیق اور اس کی ایم نظرئیے میں تجسیم نے اس کو دوبارہ زندہ کر دیا ہے۔ تاریخی طور پر اضافی خلاء کے تصوّر کو طبیعیات دانوں کی وجہ سے بڑی سخت مخالفت کا سامنا کرنا پڑا تھا؛ ان کا کہنا تھا کہ اضافی جہتیں صوفیوں اور عطائیوں کے کھیل کا میدان ہے۔ وہ سائنس دان جو ان دیکھے جہانوں کی بات کرتے تھے وہ زبردست تمسخر کا نشانہ بنتے تھے۔
ایم نظرئیے کے آنے کے ساتھ ہی سب کچھ بدل گیا۔ اضافی جہتیں اب طبیعیات کی دنیا میں ہونے والے انقلاب میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں کیونکہ طبیعیات دان مجبور ہیں کہ وہ عظیم تر مسئلے کا سامنا کریں، عمومی اضافیت اور کوانٹم کے درمیان موجود کھائی کو پاٹیں ۔ حیرت انگیز طور پر یہ دونوں نظرئیے اس تمام علم کا مجموعہ ہیں جو ہم نے طبیعیات کے شعبے میں کائنات کے بارے میں بنیادی طور پر حاصل کیا ہے۔ فی الوقت صرف ایم نظریہ ہی ان دونوں بظاہر ایک دوسرے کی مخالف نظریوں کو ایک کرکے ایک "ہر شئے کے نظرئیے" میں ڈھال سکتا ہے۔ وہ تمام نظرئیے جو ماضی میں پیش کئے گئے ہیں ان میں سے صرف ایک ہی امید وار اس قابل نظر آتا ہے جو بقول آئن سٹائن کے "خدا کی حکمت" کو جان سکے اور وہ ہے ایم نظریہ۔
صرف دس یا گیارہ جہتوں میں ہمارے پاس اتنی جگہ ہوگی کہ ہم قدرت کی تمام قوّتوں کو ایک نفیس نظرئیے میں بیان کر سکیں۔
http://www.jahanescience.com/…/Parallel.Worlds.Chapter.7.2.…
#جہان_سائنس #اردو #سائنس #ترجمہ #میچیو_کاکو #متوازی_دنیائیں #متوازی_کائناتیں #طبیعیات #فلکیات
#jahanescience

0 تبصرے:

ایک تبصرہ شائع کریں

اردو میں تبصرہ پوسٹ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کر دیں۔