بلیک ہول کی سیر
============
ہر ماس یا انرجی رکھنے والا جسم سپیس ٹائم میں خم ڈالتا ہے .جو جسم جتنا زیادہ خم ڈالتا ہے اسکی کشش ثقل اتنی ہی زیادہ ہوتی ہے .بلیک ہول کائنات کے وہ اجسام ہیں جو سپیس ٹائم میں لا متناہی خم ڈالتے ہیں .آپ نے اکثر سنا ہو گا کہ بگ بینگ سے پہلے اور بلیک ہول کے اندر آئنسٹائن کا نظریہ اضافیت دم توڑ دیتا ہے .یہ بات ٹھیک ہے لیکن آئنسٹائن کی مساوات ہمیں بلیک ہول کو کچھ نہ کچھ سمجھنے میں ضرورمدد دیتی ہیں
روشنی ہمیشہ سیدھے راستے پر سفر کرتی ہے .آپ روشنی کو موڑ نہیں سکتے ، آپ اس کی رفتار آھستہ نہیں کر سکتے . آپ نے شاید پڑھا ہی ہو کہ روشنی جب کسی بھاری فلکی جسم کے پاس سے گزرتی ہے تو وہ خم کھا جاتی ہے .ایسے ہی آپ نے پڑھ رکھا ہو گا کہ روشنی کی رفتار مختلف میڈیم میں مختلف ہے .روشنی خلاء میں سب سے تیز ہوا میں اس سے کم مائع میں اس سے کم اور ٹھوس اجسام میں سب سے کم رفتار سے سفر کرتی ہے اصل میں یہ کیسے ہوتا ہے آئیے اس پر نظر ڈالتے ہیں
1.روشنی ہمیشہ سیدھی لائین میں سفر کرتی ہے،لیکن کیا ہو اگر آپ راستہ ہی ٹیڑھا کر دیں ؟ روشنی ہمیشہ اسی راستے پر چلے گی اور سیدھی لائین میں چلے گی لیکن جس راستے پر وہ چل رہی ہو گی وہی ٹیڑھا ہو چکا ہو گا .روشنی سپیس میں سفر کرتی ہے اور بھاری اجسام سپیس ٹائم کے لچکدار کپڑے میں خم ڈالتے ہیں .یعنی روشنی تو پھر بھی سیدھی ہی گئی لیکن جس راستے پر سےوہ گئی وہی مڑا ہوا تھا .بھاری اجسام کے پاس روشنی نہیں مڑتی بلکے راستہ ہی مڑ جاتا ہے
2.روشنی کی رفتار ہمیشہ ایک سی ہی رہتی ہے .یہ بات غلط ہے کہ مختلف میڈیم میں اس کی رفتار مختلف ہے .ایسا صرف ہمیں محسوس ہوتا ہے .خلاء میں کوئی ذرات نہیں ہوتے لہٰذا روشنی بلا مزاحمت سیدھا آگے بڑھتی ہے .ہوا میں ایٹم اور مالیکیول ہوتے ہیں روشنی کو ان کے اندر سے گزرنا ہوتا ہے جس کی وجہ سے ایٹم یا مالیکیول کے راستے میں آ جانے کی وجہ سے وہ راستہ بدلتی ہے .مائع میں گیس کے مقابلے میں مالیکیول زیادہ قریب ہوتے ہیں لہٰذا روشنی کو اپنا راستہ زیادہ بدلنا پڑتا ہے اور ٹھوس اجسام کے ایٹم سب سے قریب ہوتے ہیں لہٰذا روشنی کی رفتار ٹھوس میں سب سے کم محسوس ہوتی ہے .ایک بات جو یاد رکھنے کی ہے وہ یہ ہے کہ میڈیم چاہے جو کوئی بھی ہو روشنی کی رفتار نہیں بدلتی .بدلتی ہے تو میڈیم کے ایٹم کی تعداد جس کی وجہ سے روشنی کو زیادہ لمبا راستہ تہ کرنا پڑتا ہے
تو واپس اپنے موضوع کی طرف آتے ہیں .اگر آپ بلیک ہول کے پاس جائیں گے تو آپ کو لگے گا کہ آپ سیدھی لائین میں سفر کر رہے ہیں لیکن دراصل آپ اس کا چکر لگانے لگیں گے .آپ جس راستے پر سفر کر رہے ہونگے سپیس ٹائم کے خم کی وجہ سے وہ ہی مڑ چکا ہو گا .اسی طرح روشنی بلیک ہول کے پاس آ کر بھی سیدھا ہی سفر کرتی ہے لیکن اس کا راستہ خم کھا جاتا ہے
آئنسٹائن کے نظریہ اضافیت کے مطابق کشش ثقل وقت کی رفتار پر اثر انداز ہوتی ہے اور اسے آھستہ کر دیتی ہے .آپ بلیک ہول کا چکر لگاتے ہوے جو کام کریں گے آپ سے دور بیٹھا شخص ان کو بہت آھستہ ہوتا محسوس کرے گا کیونکہ آپ کا وقت بیک ہول کی کشش ثقل کے زیر اثر آھستہ ہو گیا ہو گا لیکن آپ کیلئے وقت نارمل رفتار سے چل رہا ہو گا
اسی طرح آپ بلیک ہول کے پاس جا کر کسی دور بیٹھے شخص سے بات کریں تو وہ آپ کو بہت تیزی سے بات کرتا نظر آے گا کیونکہ آپ کے حساب سے اسکا وقت تیز چل رہا ہو گا .
آپ اب بلیک ہول کی طرف بڑھیں آپ اکریشن ڈسک میں پہنچ جائیں گے .یہ لاکھوں میل چوڑی پگھلی ہوی دھول اور گیس کی ایک ڈسک ہوتی ہے ہے جس کا درجہ حرارت کیی ملین کیلون ہوتا ہے .بلیک ہول تو بلیک ہوتا ہے لیکن یہ چمکتی اکریشن ڈسک اسے کائنات کا بہت ہی زیادہ چکدر جسم بنا سکتی ہیں آپ نے سنا ہو گا کہ بلیک ہول ہر چیز کو اندر کھینچ لیتا ہے .لیکن یہ ڈسک تو اس کے گرد گھوم رہی ہوتی ہے اور پتھروں کے آپس میں ٹکرانے سے مزید گرم ہو رہی ہوتی ہے .وہ کونسی طاقت ہے جو اس ڈسک میں موجود مادے کو بلیک ہول کے اندر گرنے سے بچاتی ہے ؟ یہ سنٹریفیوگل فورس ہے .دراصل کائنات کی لگ بھگ تمام چیزیں کسی نہ کسی طرح سے سپن کرتی ہیں یہ انکے انگولر مومینٹم کی وجہ سے ہوتا ہے ،اگر آپ کسی ایک چیز کو سپن کر دیں گے تو وہ تب تک سپن کرتی رہے گی جب تک اس پر کوئی بیرونی قوت اثر انداز نہ ہو
آپ اگر ریوالونگ چیئر پر بانہیں پھیلاے سپن کر رہے ہوں اور پھر آپ بازو اندر کر لیں تو آپ کی سپن کرنے کی رفتار بڑھ جاتی ہے ،یہ انگولر مومینٹم کو کنزرو کرنے کیلئے ہوتا ہے
بلیک ہول جس ستارے کی موت سے بنا ہوتا ہے اس میں بھی انگولر مومینٹم ہوتا ہے لیکن جب ستارے کی موت ہوتی ہے اور وہ سکڑ جاتا ہے سپن کی رفتار مزید بڑھ جاتی ہے جس کا تجربہ ہم نے ابھی کیا
جب کوئی چیز بلیک ہول کی طرف گرتی ہے وہ اس انگولر مومینٹم کی وجہ سے بہت تیزی سے سپن کرتی ہے اور سپن کرنے کی رفتار روشنی کی رفتار کے آس پاس پہنچ جاتی ہے .یعنی سنٹریفیوگل فورس کشش ثقل کا مقابلہ کر رہی ہوتی ہے اور مادے کو اندر گرنے سے بچاتی ہے .
سنٹریفیوگل فورس کیسے کام کرتی ہے اس کیلئے آپ نے کبھی میلے یا یا پھر ٹی وی وغیرہ میں دیکھا ہو گا کہ ایک سیلنڈر کی شکل کمرہ سا ہوتا ہے آپ دیوار کے ساتھ لگ کر کھڑے ہو جاتے ہیں وہ کمرہ تیزی سے گھومتا ہے اور پھر فرش آپ کے پیروں سے ہٹا لیا جاتا ہے لیکن پھر بھی آپ نیچے نہیں گرتے کیونکہ سپن کرنے کی وجہ سے آپ دیوار کی طرف قوت لگاتے ہیں اور اسی کے ساتھ جڑے رہتے ہیں
بلیک ہول کے پاس کشش ثقل اور سنٹریفیوگل فورس میں مقابلہ چلتا رہتا ہے .بلیک ہول صرف اکریشن ڈسک کو نہیں گھماتا بلکہ اپنے ارد گرد موجود سپیس کو بھی گھماتا ہے .آھستہ آھستہ کشش ثقل جیتنے لگتی ہے .سائنسدانوں کا خیال ہے کہ اکریشن ڈسک میں موجود 40 فیصد مادہ کبھی بلیک ہول میں نہیں گرتا .آپ کو نقصان تب ہوتا ہے جب آپ بلیک ہول میں گر جائیں لیکن اگر آپ اکرشن ڈسک میں سپن کرتے رہیں تو آپ محفوظ رہیں گے (اگر آپ کسی چیز سے ٹکرا نہ جائیں)
اب آپ ایونٹ ہورائزن کی طرف بڑھ رہے ہیں .یہ وہ جگہ ہے جہاں سے واپسی ممکن نہیں .آئنسٹائن کی تھیوری کے مطابق ایونٹ ہورائزن کو پار کرنا کسی بہت ہی اونچی جگہ سے چھلانگ لگانے کے مترادف ہے .آپ اگر ایک دفعہ چھلانگ لگا دیں تو واپسی ممکن نہیں .جیسے پانی ایک دفعہ آبشار سے گر جاے تو اس کیلئے واپسی ممکن نہیں ،ایونٹ ہورائزن سے آگے سپیس اچانک نیچے کو مڑ جاتی ہے .کوئی بھی چیز حتیٰ کے روشنی بھی جب ایونٹ ہورائزن کو پار کرتی ہے وہ سپیس کے ساتھ نیچے گرتی چلی جاتی ہے روشنی کو واپس باھر آنے کیلئے روشنی سے بھی تیز رفتار چاہئیے جو کہ ممکن نہیں ایونٹ ہورائزن پر وقت تقریبا رک جاتا ہے اور زمین سے آپ کو کوئی بھی چیز ایونٹ ہورائزن سے اندر گرتی نظر نہیں آتی .اس کو اندر گرنے کیلئے کائنات سے بھی زیادہ وقت درکار ہو گا ( آپ کے فریم آف ریفرنس میں )
ہم نہیں جانتے کے ایونٹ ہورائزن سے آگے کیا ہے .آئنسٹائن کی تھیوری کے مطابق سپیس ٹائم بس اچانک مڑ جاتا ہے جیسے آبشار والی مثال میں زمین مڑ گئی تھی لیکن ایک نئی تھیوری کے مطابق ایونٹ ہورائزن خالی سپیس نہیں ہے .یہ ایک آگ کی دیوار ہے جسے پار کرنا ممکن نہیں .یہاں پر حد سے زیادہ توانائی رکھنے والے فوٹون ہوتے ہیں.جو ہر چیز کو جلا دیتے ہیں
اب ہمارے پاس دو ممکنہ صورتیں ہیں :-
1جو چیزیں ایونٹ ہورائزن کو پار کریں گی فورا ہی اندر کو گر جائیں گی
2جو چیزیں ایونٹ ہورائزن کو پار کرنے کی کوشش کریں گی فورا جل جائیں گی
اگر آپ پتہ کرنے کی جستجو میں بلیک ہول میں کودتے ہیں تو آپ کو تو پتہ چل جاے گا کے اندر کیا ہے لیکن وہ آپ کسی اور کو نہیں بتا پائیں گے کیونکہ کوئی چیز وہاں سے واپس نہیں آ سکتی
فرض کریں کہ ایونٹ ہورائزن آگ کی دیوار نہیں ہے اور کوئی چیز اس میں داخل ہو جاتی ہے
ایونٹ ہورائزن سے آگے کشش ثقل اتنی زیادہ ہوتی ہے کہ وہ سپیس ٹائم کو روشنی سے بھی تیز accelerate کر دیتی ہے نتیجتا جو بھی چیز بلیک ہول کے اندر گرے گی اس کو بلیک ہول کے سینٹر تک ٨٠ لاکھ مل کے سفر کو پورا کرنے کیلئے 40 سیکنڈ سے بھی کم وقت لگے گا جو بھی چیز ایونٹ ہورائزن کو پار کرے گی وہ کشش ثقل کی اس عظیم طاقت کی وجہ سے نچلی طرف سے لمبی ہوتی چلی جاے گی لیکن فرض کریں کہ وہ چیز جو بلیک ہول میں گری تھی اس موقعے پر تباہ نہیں ہوی
بلیک ہول میں وہ تمام روشنی جو اس کی پیدائش سے لیکر موجودہ وقت تک گئی ہوتی ہے وہیں موجود ہوتی ہے یعنی بلیک ہول کے پاس کائنات کی ہسٹری کا ریکارڈ ہوتا ہے .جیسے جیسے چیز بلیک ہول کے سینٹر کی طرف بڑھے گی کشش ثقل اور سپن کا مقابلہ پھر سے شروع ہو جاے گا اور شدت اختیار کر جاے گا .بلیک ہول کے اندر سپن زیادہ ہوتی ہے نتیجتا وہ کشش ثقل کا مقابلہ کرتی ہے اور سپیس ٹائم کے کو آھستہ کر کے روشنی کی رفتار تک لے آتی ہے .جس پوائنٹ پر سپیس کی سپیڈ روشنی کی سپیڈ تک آ جاے اسے inner ہورائزن کہتے ہیں .inner horizon پر ہر چیز ٹکرا کر واپس جاتی ہے ،یہ کائنات کی خطرناک ترین جگہوں میں سے ایک ہے ،یہ پارٹیکلز کو روشنی کی رفتار کے آس پاس accelerate کر دیتا ہے اور ہر چیز تباہ و برباد کر دیتا ہے .inner horizon کے بعد وہ علاقہ آتا ہے جہاں سب نارمل ہو جاتا ہے ،یہاں باھر کو دھکیل رہی سپن اور اندر کو کھینچتی کشش ثقل آپس میں برابر یا بیلنس ہو جاتے ہیں اس علاقے کے بعد singularity آتی ہے یہ سپیس ٹائم کا ،آئنسٹائن کی تھیوری کا اور ہماری کائناتی سمجھ کا اختتام ہوتا ہے اس سے آگے کیا ہے کوئی نہیں جانتا .
بلیک ہول میں موجود سنگلیرٹی (پرانی پوسٹ):-
سنگلرٹی بلیک ہول کے اندر inner ہورائزن سے بھی آگے کا حصّہ ہے .یہاں فزکس کے تمام قوانین دم توڑ دیتے ہیں اور ہماری سمجھ میں اس سے کچھ نہیں آتا .یہاں کیا ہوتا ہے پتہ نہیں .یہ infinitely چھوٹا infinitely ڈینسinfinitely thick ٹائم اور سپیس میں infinite curvature پیدا کرتا ہے ..infinite وہ چیز ہوتی ہے جو ہماری سمجھ سے فلحال پرے ہو.فزکس کے موجودہ قوانین کا استمال کر کہ ہم جان ہی نہیں سکتے کہ وہاں کیا ہوتا ہے کیونکہ وہاں نظریہ خصوصی اضافیت بھی فیل ہو جاتا ہے .اس میں انفنٹی کا کوئی قصور نہیں ہے بلکہ قصور ہماری کائناتی قوانین کی سمجھ کا ہے .یہ انفنٹی تب تک قائم رہے گی جب تک ہمارے پاس اس کا کوئی مزید بہتر ماڈل نہیں آ جاتا جو اس سب کو زیادہ بہتر انداز میں بیان کرے .تب تک یہ انفنٹی ہے .یاد رہے کہ فزکس میں کچھ انفنٹ نہیں ہوتا بلکہ یہ ہماری سمجھ کے فنٹ ہونے کی نشانی ہے
اس سے متعلق چند نظریات پیش خدمت ہیں
سنگلرٹی ایک ورم ہول ہے جو سپیس ٹائم کو موڑ کر فاصلوں کو چھوٹا کر دیتا ہے نتیجتا کوئی بھی چیز جو اس میں داخل ہوتی ہے کائنات میں کسی اور جگہ کچھ نوری سال دور نکل آتی ہے
.ایک نظریہ یہ ہے کہ سنگلرٹی ایک وہائٹ ہول ہے وہائٹ ہول چیزوں کو باھر کی طرف پھینکتا ہے .جیسے بلیک ہول سے کوئی چیز نکل نہیں سکتی اسی طرح وہائٹ ہول میں کوئی چیز داخل نہیں ہو سکتی .خیال ہے کہ singularity بھی ایک وقت آنے پر پھٹتی ہے اور اگر ہم کائنات کے آغاز پر غور کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ کائنات بھی singularity سے وجود میں آی .ہو سکتا ہے کہ ہماری کائنات ایسے ہی کسی وہائٹ ہول کے اچانک مادہ باھر پھینکنے سے وجود میں آی ہو .ہمیں آج وہائٹ ہول کائنات میں نظر کیوں نہیں آتے اس کا جواب یہ ہو سکتا ہے کہ ابھی انکی اتنی عمر ہی نہ ہوی کہ وہ پھٹ سکیں اور نیا یونیورس بنا سکیں .یا یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اب وہ خاص حالات ہی نہ رہے ہوں جو وہائٹ ہول کہ پھٹنے کیلئے ضروری ہیں .وہائٹ ہول کا مادہ باھر کی طرف پھینکنا ہماری کائنات میں بھی ہو سکتا ہے اور کسی اور کائنات میں بھی
ان دونوں نظریات میں سے کسی ایک کا بھی مشاہدہ نہیں کیا گیا یہ صرف خیالات ہی ہیں
اگر آپ بلیک ہول کے زریعےسپیس میں ایک جگہ سے دوسری جگہ جانے کا سوچ رہے ہیں تو اپنی سوچ بدلیے کیونکہ اس سارے کھیل میں جو چیز بلیک ہول میں داخل ہوتی ہے اور جو چیز باھر آتی ہے دونوں کا آپس میں کوئی تعلق نہیں ہوتا
(ابوبکر)
============
ہر ماس یا انرجی رکھنے والا جسم سپیس ٹائم میں خم ڈالتا ہے .جو جسم جتنا زیادہ خم ڈالتا ہے اسکی کشش ثقل اتنی ہی زیادہ ہوتی ہے .بلیک ہول کائنات کے وہ اجسام ہیں جو سپیس ٹائم میں لا متناہی خم ڈالتے ہیں .آپ نے اکثر سنا ہو گا کہ بگ بینگ سے پہلے اور بلیک ہول کے اندر آئنسٹائن کا نظریہ اضافیت دم توڑ دیتا ہے .یہ بات ٹھیک ہے لیکن آئنسٹائن کی مساوات ہمیں بلیک ہول کو کچھ نہ کچھ سمجھنے میں ضرورمدد دیتی ہیں
روشنی ہمیشہ سیدھے راستے پر سفر کرتی ہے .آپ روشنی کو موڑ نہیں سکتے ، آپ اس کی رفتار آھستہ نہیں کر سکتے . آپ نے شاید پڑھا ہی ہو کہ روشنی جب کسی بھاری فلکی جسم کے پاس سے گزرتی ہے تو وہ خم کھا جاتی ہے .ایسے ہی آپ نے پڑھ رکھا ہو گا کہ روشنی کی رفتار مختلف میڈیم میں مختلف ہے .روشنی خلاء میں سب سے تیز ہوا میں اس سے کم مائع میں اس سے کم اور ٹھوس اجسام میں سب سے کم رفتار سے سفر کرتی ہے اصل میں یہ کیسے ہوتا ہے آئیے اس پر نظر ڈالتے ہیں
1.روشنی ہمیشہ سیدھی لائین میں سفر کرتی ہے،لیکن کیا ہو اگر آپ راستہ ہی ٹیڑھا کر دیں ؟ روشنی ہمیشہ اسی راستے پر چلے گی اور سیدھی لائین میں چلے گی لیکن جس راستے پر وہ چل رہی ہو گی وہی ٹیڑھا ہو چکا ہو گا .روشنی سپیس میں سفر کرتی ہے اور بھاری اجسام سپیس ٹائم کے لچکدار کپڑے میں خم ڈالتے ہیں .یعنی روشنی تو پھر بھی سیدھی ہی گئی لیکن جس راستے پر سےوہ گئی وہی مڑا ہوا تھا .بھاری اجسام کے پاس روشنی نہیں مڑتی بلکے راستہ ہی مڑ جاتا ہے
2.روشنی کی رفتار ہمیشہ ایک سی ہی رہتی ہے .یہ بات غلط ہے کہ مختلف میڈیم میں اس کی رفتار مختلف ہے .ایسا صرف ہمیں محسوس ہوتا ہے .خلاء میں کوئی ذرات نہیں ہوتے لہٰذا روشنی بلا مزاحمت سیدھا آگے بڑھتی ہے .ہوا میں ایٹم اور مالیکیول ہوتے ہیں روشنی کو ان کے اندر سے گزرنا ہوتا ہے جس کی وجہ سے ایٹم یا مالیکیول کے راستے میں آ جانے کی وجہ سے وہ راستہ بدلتی ہے .مائع میں گیس کے مقابلے میں مالیکیول زیادہ قریب ہوتے ہیں لہٰذا روشنی کو اپنا راستہ زیادہ بدلنا پڑتا ہے اور ٹھوس اجسام کے ایٹم سب سے قریب ہوتے ہیں لہٰذا روشنی کی رفتار ٹھوس میں سب سے کم محسوس ہوتی ہے .ایک بات جو یاد رکھنے کی ہے وہ یہ ہے کہ میڈیم چاہے جو کوئی بھی ہو روشنی کی رفتار نہیں بدلتی .بدلتی ہے تو میڈیم کے ایٹم کی تعداد جس کی وجہ سے روشنی کو زیادہ لمبا راستہ تہ کرنا پڑتا ہے
تو واپس اپنے موضوع کی طرف آتے ہیں .اگر آپ بلیک ہول کے پاس جائیں گے تو آپ کو لگے گا کہ آپ سیدھی لائین میں سفر کر رہے ہیں لیکن دراصل آپ اس کا چکر لگانے لگیں گے .آپ جس راستے پر سفر کر رہے ہونگے سپیس ٹائم کے خم کی وجہ سے وہ ہی مڑ چکا ہو گا .اسی طرح روشنی بلیک ہول کے پاس آ کر بھی سیدھا ہی سفر کرتی ہے لیکن اس کا راستہ خم کھا جاتا ہے
آئنسٹائن کے نظریہ اضافیت کے مطابق کشش ثقل وقت کی رفتار پر اثر انداز ہوتی ہے اور اسے آھستہ کر دیتی ہے .آپ بلیک ہول کا چکر لگاتے ہوے جو کام کریں گے آپ سے دور بیٹھا شخص ان کو بہت آھستہ ہوتا محسوس کرے گا کیونکہ آپ کا وقت بیک ہول کی کشش ثقل کے زیر اثر آھستہ ہو گیا ہو گا لیکن آپ کیلئے وقت نارمل رفتار سے چل رہا ہو گا
اسی طرح آپ بلیک ہول کے پاس جا کر کسی دور بیٹھے شخص سے بات کریں تو وہ آپ کو بہت تیزی سے بات کرتا نظر آے گا کیونکہ آپ کے حساب سے اسکا وقت تیز چل رہا ہو گا .
آپ اب بلیک ہول کی طرف بڑھیں آپ اکریشن ڈسک میں پہنچ جائیں گے .یہ لاکھوں میل چوڑی پگھلی ہوی دھول اور گیس کی ایک ڈسک ہوتی ہے ہے جس کا درجہ حرارت کیی ملین کیلون ہوتا ہے .بلیک ہول تو بلیک ہوتا ہے لیکن یہ چمکتی اکریشن ڈسک اسے کائنات کا بہت ہی زیادہ چکدر جسم بنا سکتی ہیں آپ نے سنا ہو گا کہ بلیک ہول ہر چیز کو اندر کھینچ لیتا ہے .لیکن یہ ڈسک تو اس کے گرد گھوم رہی ہوتی ہے اور پتھروں کے آپس میں ٹکرانے سے مزید گرم ہو رہی ہوتی ہے .وہ کونسی طاقت ہے جو اس ڈسک میں موجود مادے کو بلیک ہول کے اندر گرنے سے بچاتی ہے ؟ یہ سنٹریفیوگل فورس ہے .دراصل کائنات کی لگ بھگ تمام چیزیں کسی نہ کسی طرح سے سپن کرتی ہیں یہ انکے انگولر مومینٹم کی وجہ سے ہوتا ہے ،اگر آپ کسی ایک چیز کو سپن کر دیں گے تو وہ تب تک سپن کرتی رہے گی جب تک اس پر کوئی بیرونی قوت اثر انداز نہ ہو
آپ اگر ریوالونگ چیئر پر بانہیں پھیلاے سپن کر رہے ہوں اور پھر آپ بازو اندر کر لیں تو آپ کی سپن کرنے کی رفتار بڑھ جاتی ہے ،یہ انگولر مومینٹم کو کنزرو کرنے کیلئے ہوتا ہے
بلیک ہول جس ستارے کی موت سے بنا ہوتا ہے اس میں بھی انگولر مومینٹم ہوتا ہے لیکن جب ستارے کی موت ہوتی ہے اور وہ سکڑ جاتا ہے سپن کی رفتار مزید بڑھ جاتی ہے جس کا تجربہ ہم نے ابھی کیا
جب کوئی چیز بلیک ہول کی طرف گرتی ہے وہ اس انگولر مومینٹم کی وجہ سے بہت تیزی سے سپن کرتی ہے اور سپن کرنے کی رفتار روشنی کی رفتار کے آس پاس پہنچ جاتی ہے .یعنی سنٹریفیوگل فورس کشش ثقل کا مقابلہ کر رہی ہوتی ہے اور مادے کو اندر گرنے سے بچاتی ہے .
سنٹریفیوگل فورس کیسے کام کرتی ہے اس کیلئے آپ نے کبھی میلے یا یا پھر ٹی وی وغیرہ میں دیکھا ہو گا کہ ایک سیلنڈر کی شکل کمرہ سا ہوتا ہے آپ دیوار کے ساتھ لگ کر کھڑے ہو جاتے ہیں وہ کمرہ تیزی سے گھومتا ہے اور پھر فرش آپ کے پیروں سے ہٹا لیا جاتا ہے لیکن پھر بھی آپ نیچے نہیں گرتے کیونکہ سپن کرنے کی وجہ سے آپ دیوار کی طرف قوت لگاتے ہیں اور اسی کے ساتھ جڑے رہتے ہیں
بلیک ہول کے پاس کشش ثقل اور سنٹریفیوگل فورس میں مقابلہ چلتا رہتا ہے .بلیک ہول صرف اکریشن ڈسک کو نہیں گھماتا بلکہ اپنے ارد گرد موجود سپیس کو بھی گھماتا ہے .آھستہ آھستہ کشش ثقل جیتنے لگتی ہے .سائنسدانوں کا خیال ہے کہ اکریشن ڈسک میں موجود 40 فیصد مادہ کبھی بلیک ہول میں نہیں گرتا .آپ کو نقصان تب ہوتا ہے جب آپ بلیک ہول میں گر جائیں لیکن اگر آپ اکرشن ڈسک میں سپن کرتے رہیں تو آپ محفوظ رہیں گے (اگر آپ کسی چیز سے ٹکرا نہ جائیں)
اب آپ ایونٹ ہورائزن کی طرف بڑھ رہے ہیں .یہ وہ جگہ ہے جہاں سے واپسی ممکن نہیں .آئنسٹائن کی تھیوری کے مطابق ایونٹ ہورائزن کو پار کرنا کسی بہت ہی اونچی جگہ سے چھلانگ لگانے کے مترادف ہے .آپ اگر ایک دفعہ چھلانگ لگا دیں تو واپسی ممکن نہیں .جیسے پانی ایک دفعہ آبشار سے گر جاے تو اس کیلئے واپسی ممکن نہیں ،ایونٹ ہورائزن سے آگے سپیس اچانک نیچے کو مڑ جاتی ہے .کوئی بھی چیز حتیٰ کے روشنی بھی جب ایونٹ ہورائزن کو پار کرتی ہے وہ سپیس کے ساتھ نیچے گرتی چلی جاتی ہے روشنی کو واپس باھر آنے کیلئے روشنی سے بھی تیز رفتار چاہئیے جو کہ ممکن نہیں ایونٹ ہورائزن پر وقت تقریبا رک جاتا ہے اور زمین سے آپ کو کوئی بھی چیز ایونٹ ہورائزن سے اندر گرتی نظر نہیں آتی .اس کو اندر گرنے کیلئے کائنات سے بھی زیادہ وقت درکار ہو گا ( آپ کے فریم آف ریفرنس میں )
ہم نہیں جانتے کے ایونٹ ہورائزن سے آگے کیا ہے .آئنسٹائن کی تھیوری کے مطابق سپیس ٹائم بس اچانک مڑ جاتا ہے جیسے آبشار والی مثال میں زمین مڑ گئی تھی لیکن ایک نئی تھیوری کے مطابق ایونٹ ہورائزن خالی سپیس نہیں ہے .یہ ایک آگ کی دیوار ہے جسے پار کرنا ممکن نہیں .یہاں پر حد سے زیادہ توانائی رکھنے والے فوٹون ہوتے ہیں.جو ہر چیز کو جلا دیتے ہیں
اب ہمارے پاس دو ممکنہ صورتیں ہیں :-
1جو چیزیں ایونٹ ہورائزن کو پار کریں گی فورا ہی اندر کو گر جائیں گی
2جو چیزیں ایونٹ ہورائزن کو پار کرنے کی کوشش کریں گی فورا جل جائیں گی
اگر آپ پتہ کرنے کی جستجو میں بلیک ہول میں کودتے ہیں تو آپ کو تو پتہ چل جاے گا کے اندر کیا ہے لیکن وہ آپ کسی اور کو نہیں بتا پائیں گے کیونکہ کوئی چیز وہاں سے واپس نہیں آ سکتی
فرض کریں کہ ایونٹ ہورائزن آگ کی دیوار نہیں ہے اور کوئی چیز اس میں داخل ہو جاتی ہے
ایونٹ ہورائزن سے آگے کشش ثقل اتنی زیادہ ہوتی ہے کہ وہ سپیس ٹائم کو روشنی سے بھی تیز accelerate کر دیتی ہے نتیجتا جو بھی چیز بلیک ہول کے اندر گرے گی اس کو بلیک ہول کے سینٹر تک ٨٠ لاکھ مل کے سفر کو پورا کرنے کیلئے 40 سیکنڈ سے بھی کم وقت لگے گا جو بھی چیز ایونٹ ہورائزن کو پار کرے گی وہ کشش ثقل کی اس عظیم طاقت کی وجہ سے نچلی طرف سے لمبی ہوتی چلی جاے گی لیکن فرض کریں کہ وہ چیز جو بلیک ہول میں گری تھی اس موقعے پر تباہ نہیں ہوی
بلیک ہول میں وہ تمام روشنی جو اس کی پیدائش سے لیکر موجودہ وقت تک گئی ہوتی ہے وہیں موجود ہوتی ہے یعنی بلیک ہول کے پاس کائنات کی ہسٹری کا ریکارڈ ہوتا ہے .جیسے جیسے چیز بلیک ہول کے سینٹر کی طرف بڑھے گی کشش ثقل اور سپن کا مقابلہ پھر سے شروع ہو جاے گا اور شدت اختیار کر جاے گا .بلیک ہول کے اندر سپن زیادہ ہوتی ہے نتیجتا وہ کشش ثقل کا مقابلہ کرتی ہے اور سپیس ٹائم کے کو آھستہ کر کے روشنی کی رفتار تک لے آتی ہے .جس پوائنٹ پر سپیس کی سپیڈ روشنی کی سپیڈ تک آ جاے اسے inner ہورائزن کہتے ہیں .inner horizon پر ہر چیز ٹکرا کر واپس جاتی ہے ،یہ کائنات کی خطرناک ترین جگہوں میں سے ایک ہے ،یہ پارٹیکلز کو روشنی کی رفتار کے آس پاس accelerate کر دیتا ہے اور ہر چیز تباہ و برباد کر دیتا ہے .inner horizon کے بعد وہ علاقہ آتا ہے جہاں سب نارمل ہو جاتا ہے ،یہاں باھر کو دھکیل رہی سپن اور اندر کو کھینچتی کشش ثقل آپس میں برابر یا بیلنس ہو جاتے ہیں اس علاقے کے بعد singularity آتی ہے یہ سپیس ٹائم کا ،آئنسٹائن کی تھیوری کا اور ہماری کائناتی سمجھ کا اختتام ہوتا ہے اس سے آگے کیا ہے کوئی نہیں جانتا .
بلیک ہول میں موجود سنگلیرٹی (پرانی پوسٹ):-
سنگلرٹی بلیک ہول کے اندر inner ہورائزن سے بھی آگے کا حصّہ ہے .یہاں فزکس کے تمام قوانین دم توڑ دیتے ہیں اور ہماری سمجھ میں اس سے کچھ نہیں آتا .یہاں کیا ہوتا ہے پتہ نہیں .یہ infinitely چھوٹا infinitely ڈینسinfinitely thick ٹائم اور سپیس میں infinite curvature پیدا کرتا ہے ..infinite وہ چیز ہوتی ہے جو ہماری سمجھ سے فلحال پرے ہو.فزکس کے موجودہ قوانین کا استمال کر کہ ہم جان ہی نہیں سکتے کہ وہاں کیا ہوتا ہے کیونکہ وہاں نظریہ خصوصی اضافیت بھی فیل ہو جاتا ہے .اس میں انفنٹی کا کوئی قصور نہیں ہے بلکہ قصور ہماری کائناتی قوانین کی سمجھ کا ہے .یہ انفنٹی تب تک قائم رہے گی جب تک ہمارے پاس اس کا کوئی مزید بہتر ماڈل نہیں آ جاتا جو اس سب کو زیادہ بہتر انداز میں بیان کرے .تب تک یہ انفنٹی ہے .یاد رہے کہ فزکس میں کچھ انفنٹ نہیں ہوتا بلکہ یہ ہماری سمجھ کے فنٹ ہونے کی نشانی ہے
اس سے متعلق چند نظریات پیش خدمت ہیں
سنگلرٹی ایک ورم ہول ہے جو سپیس ٹائم کو موڑ کر فاصلوں کو چھوٹا کر دیتا ہے نتیجتا کوئی بھی چیز جو اس میں داخل ہوتی ہے کائنات میں کسی اور جگہ کچھ نوری سال دور نکل آتی ہے
.ایک نظریہ یہ ہے کہ سنگلرٹی ایک وہائٹ ہول ہے وہائٹ ہول چیزوں کو باھر کی طرف پھینکتا ہے .جیسے بلیک ہول سے کوئی چیز نکل نہیں سکتی اسی طرح وہائٹ ہول میں کوئی چیز داخل نہیں ہو سکتی .خیال ہے کہ singularity بھی ایک وقت آنے پر پھٹتی ہے اور اگر ہم کائنات کے آغاز پر غور کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ کائنات بھی singularity سے وجود میں آی .ہو سکتا ہے کہ ہماری کائنات ایسے ہی کسی وہائٹ ہول کے اچانک مادہ باھر پھینکنے سے وجود میں آی ہو .ہمیں آج وہائٹ ہول کائنات میں نظر کیوں نہیں آتے اس کا جواب یہ ہو سکتا ہے کہ ابھی انکی اتنی عمر ہی نہ ہوی کہ وہ پھٹ سکیں اور نیا یونیورس بنا سکیں .یا یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اب وہ خاص حالات ہی نہ رہے ہوں جو وہائٹ ہول کہ پھٹنے کیلئے ضروری ہیں .وہائٹ ہول کا مادہ باھر کی طرف پھینکنا ہماری کائنات میں بھی ہو سکتا ہے اور کسی اور کائنات میں بھی
ان دونوں نظریات میں سے کسی ایک کا بھی مشاہدہ نہیں کیا گیا یہ صرف خیالات ہی ہیں
اگر آپ بلیک ہول کے زریعےسپیس میں ایک جگہ سے دوسری جگہ جانے کا سوچ رہے ہیں تو اپنی سوچ بدلیے کیونکہ اس سارے کھیل میں جو چیز بلیک ہول میں داخل ہوتی ہے اور جو چیز باھر آتی ہے دونوں کا آپس میں کوئی تعلق نہیں ہوتا
(ابوبکر)
0 تبصرے:
ایک تبصرہ شائع کریں
اردو میں تبصرہ پوسٹ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کر دیں۔