س:تمام اشیاء ایٹموں سے مل کر بنی ہیں تو کیا انسان بھی ایٹموں سے مل کر بنا ہے۔ اگرہاں تو پھر انسانوں کی بنیادی اکائی خلیہ کیوں ہے ایٹم کیوں نہیں؟
ج:آپ کے بہت دلچسپ سوال کاجواب یہ ہے کہ اگرچہ جانداروں میں معدنیات مثلاً میگنیشئم، لوہا، فاسفورس اور کاربن وغیرہ ایٹموں اور سالمات کی شکل میں موجود ہے مگر یہ بھی تو سوچئے کہ ایک انسانی جسم میں 1012 خلیات پائے جاتے ہیں۔ یہ خلیات تقسیم ہوکر اپنی مقدار بڑھاتے ہیں۔ پھر ڈی این اے میں پوشیدہ ساری معلومات بھی خلیے میں ہی موجود ہوتی ہے۔ خلیے کے مرکزے (نیوکلیئس) میں ہمارے جین پوشیدہ ہوتے ہیں۔ رائبوسومز میں پروٹین بنتے ہیں۔ لائسوسومز میں ایسے اینزائم پائے جاتے ہیں جو بیرونی اجسام کو تباہ کرتے ہیں۔ مائٹوکونڈریا خلیے کے لیے بجلی گھر کا کام کرتا ہے اور اسے توانائی پہنچاتا ہے۔ تمام خلیات آپس میں مل کر بافت (ٹشوز) بناتے ہیں۔ انہی بافتوں سے ہماری جلد کی پرتیں، آنکھ، بیرونی اور اندرونی جھلیاں، دل، جگر، گردے، پھیپھڑے اور تمام اعضائے جسمانی بنتے ہیں۔ پھر خاص قسم کے خلیات خاص قسم کے کام انجام دیتے ہیں ۔ مثلاً اعصابی خلیات جسمانی پیغام ایک مقام سے دوسرے مقام تک پہنچاتے ہیں۔
ان تمام باتوں کے باوجود ہمیں اس حقیقت کو بھی نہیں بھولنا چاہئے کہ کوئی بھی خلیہ ایک مادی شے ہے جو بذاتِ خود پیچیدہ سالموں (مالیکیولز) کا مجموعہ ہوتا ہے اور یہ تمام سالمے، مختلف اقسام کے ایٹموں سے مل کر بنتے ہیں۔ گویا جب ہم انسانی جسم کی بات کرتے ہیں تو خلئے کو اکائی ضرور کہتے ہیں لیکن اس کا مطلب ہر گز یہ نہیں ہوتا کہ خلیہ کوئی غیر مادی چیز ہے۔ یعنی یہ کہنا زیادہ درست ہے کہ خلیہ زندگی کی اکائی ہے اور دوسری تمام مادی چیزوں کی طرح، اس کی اکائی بھی ایٹم ہے۔
ج:آپ کے بہت دلچسپ سوال کاجواب یہ ہے کہ اگرچہ جانداروں میں معدنیات مثلاً میگنیشئم، لوہا، فاسفورس اور کاربن وغیرہ ایٹموں اور سالمات کی شکل میں موجود ہے مگر یہ بھی تو سوچئے کہ ایک انسانی جسم میں 1012 خلیات پائے جاتے ہیں۔ یہ خلیات تقسیم ہوکر اپنی مقدار بڑھاتے ہیں۔ پھر ڈی این اے میں پوشیدہ ساری معلومات بھی خلیے میں ہی موجود ہوتی ہے۔ خلیے کے مرکزے (نیوکلیئس) میں ہمارے جین پوشیدہ ہوتے ہیں۔ رائبوسومز میں پروٹین بنتے ہیں۔ لائسوسومز میں ایسے اینزائم پائے جاتے ہیں جو بیرونی اجسام کو تباہ کرتے ہیں۔ مائٹوکونڈریا خلیے کے لیے بجلی گھر کا کام کرتا ہے اور اسے توانائی پہنچاتا ہے۔ تمام خلیات آپس میں مل کر بافت (ٹشوز) بناتے ہیں۔ انہی بافتوں سے ہماری جلد کی پرتیں، آنکھ، بیرونی اور اندرونی جھلیاں، دل، جگر، گردے، پھیپھڑے اور تمام اعضائے جسمانی بنتے ہیں۔ پھر خاص قسم کے خلیات خاص قسم کے کام انجام دیتے ہیں ۔ مثلاً اعصابی خلیات جسمانی پیغام ایک مقام سے دوسرے مقام تک پہنچاتے ہیں۔
ان تمام باتوں کے باوجود ہمیں اس حقیقت کو بھی نہیں بھولنا چاہئے کہ کوئی بھی خلیہ ایک مادی شے ہے جو بذاتِ خود پیچیدہ سالموں (مالیکیولز) کا مجموعہ ہوتا ہے اور یہ تمام سالمے، مختلف اقسام کے ایٹموں سے مل کر بنتے ہیں۔ گویا جب ہم انسانی جسم کی بات کرتے ہیں تو خلئے کو اکائی ضرور کہتے ہیں لیکن اس کا مطلب ہر گز یہ نہیں ہوتا کہ خلیہ کوئی غیر مادی چیز ہے۔ یعنی یہ کہنا زیادہ درست ہے کہ خلیہ زندگی کی اکائی ہے اور دوسری تمام مادی چیزوں کی طرح، اس کی اکائی بھی ایٹم ہے۔
0 تبصرے:
ایک تبصرہ شائع کریں
اردو میں تبصرہ پوسٹ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کر دیں۔