پیر، 2 اکتوبر، 2017


کیا دنیا سچ مچ تھری ڈائمینشنل ہے؟
۔۔۔
آبجیکٹ کیا ہے؟
مادہ ہے نا؟
یہ مادہ ہمیں کیسے نظر آتاہے؟
ہمارے حواس بیرونی کائنات کے ساتھ انٹرایکشن کی صورت میں ہمارے دماغ کو جو معلومات بہم پہنچاتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ان سے ہمارا دماغ اپنی سمجھ کے لیے مختلف تصورات ترتیب دے لیتاہے۔
مثال کے طور پر کوئی بھی چیز جس کو ہماری آنکھیں دیکھتی ہیں اُس کی شبیہہ ہمارے پردۂ چشم (Retina) پر ہمیشہ اُلٹی بنتی ہے۔ لیکن ہمارا دماغ اُسے ہمیشہ سیدھا کرکے ہی دیکھتاہے۔ آنکھ اور کمیرہ بالکل ایک جیسے طریقےپر کام کرتے ہیں۔ کیمرہ ہمیشہ ٹو ڈائمینشنل امیج پروڈیوس کرتاہے۔ٹو ڈائمینشنل امیج یعنی تصویر۔ تصویر ہمیشہ کاغذ یا کارڈ پر بنتی ہے یعنی ایکس وائی پر۔ تصویر کے دو رُخ ہوتے ہیں۔ یہ ایک محاورہ ہے اور اس کے معانی یکسر مختلف ہیں لیکن میں اِس محاورے کو یہاں بالکل مختلف معانی میں استعمال کررہا ہوں۔ تصویر کے دورُخ ہوتے ہیں کا ایک مطلب یہ بھی ہوسکتاہے کہ تصویر کے دو ایکسز ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ایکس ایکسز اور وائی ایکسز ہوتےہیں۔
خیر! جس طرح کیمرہ ہمیشہ ٹوڈی کا امیج پروڈیوس کرتاہے بعینہ اسی اصول کے تحت آنکھ کا کیمرہ بھی ہمیشہ ٹو ڈائمینشل امیجز پروڈیوس کرتاہے۔ لیکن ہم بیرونی کائنات کو ٹوڈائمینشنل تصویر نہیں گردانتے۔ ہم بیرونی کائنات کے ہرمنظر کو تھری ڈائمنشنل منظر ہی سمجھتے ہیں۔
ہمارے ذہن میں ایکس ایکسز اور وائی ایکسز کے علاوہ ایک اور ایکسز۔۔۔۔۔۔۔۔یعنی زیڈ ایکسز کہاں سے آجاتاہے؟
یہ سوال اس لیے ضروری ہے کہ ہماری سب سے اہم حس ۔۔۔۔۔۔حس ِ باصرہ یعنی دیکھنے کی حس نے ہمیں بیرونی کائنات کے بارے میں جو اطلاع فراہم کی تھی وہ قطعی طور پر ٹو ڈائمینشل تصویر تھی۔ تو پھر یہ اضافی ایکسز کیسے ہمارے ذہن کا حصہ ہے؟ کہاں سے آیا ہے؟ ہم کیوں جانتے ہیں کہ ہمارے سامنے کرسی پر بیٹھے ہوئے فرد اور ہمارے درمیان تین چار فٹ کا فاصلہ ہے جبکہ وہ فرد محض ایک تصویر ہے اور تصویر ایکس ایکسز اور وائی ایکسز پر بنا ہوا امیج ہوتی ہے۔
یہ زیڈ ایکسز ہمارے ذہن کی ویسی ہی فیکلٹی ہے جیسی دس کا ہندسہ ہمارے ذہن کی فیکلٹی ہے۔ مثلاً ہم اعشاری نظام سے ہٹ کر کسی اور نظام کو فطری طور پر اپنانے کی اہلیت ہی نہیں رکھتے۔ جب بھی ہم کسی اور نظام کے تحت اعداد اور رقوم کو سمجھنے کی کوشش کرینگے ہمیں مشین کا سہارا لینا پڑیگا۔ اعشاری نظام ہمارے دماغ میں فکسڈ ہے ۔ اگر آپ سے کوئی کہے کہ اس نے چارسو ستر روپے خرچ کیے ہیں تو وہ دراصل آپ کو یہ بتارہا ہے کہ دس روپے کی دس گڈیاں ہوں تو ایک سو بنتا ہے۔ ایسی ہی چار گڈیاں تھیں اور ایک گڈی میں دس کے سات مجموعے تھے۔
ایسا کیوں ہے کہ ہم اعشاری نظام کو استعمال کرنے پر مجبور ہیں؟
اس کا مناسب ترین جواب یہ ہے کہ ہماری انگلیاں دس ہیں اس لیے ہم نے ارتقائی مراحل کے دوران ہی جب ہزاروں سال تک ان انگلیوں کا آبجیکٹس کی گنتی کے لیے استعمال کیا تو وقت کے ساتھ ساتھ اعشاری نظام (دس کا نظام) ہمارے ذہن کی ایک پختہ ترین فیکلٹی بن گیا۔ یا شاید ہمارے جینز کا حصہ بھی بن گیا ہو تو بعید نہیں۔ ایسی ہی پختہ فیکلٹی زیڈ ایکسز کا الّیوژن بھی ہے۔یعنی ہمیں حواس نے تو جو بتایا وہ یہ تھا کہ بیرونی کائنات ٹوڈائمینشنل ہے لیکن ہمارے دماغ نے دس کے نظام کی طرح بیرونی کائنات کو سمجھنے کا اپنا ایک الگ نظام بنا لیا۔ حاصل شدہ معلومات یعنی ٹوڈائمینشنل تصویر کے ایکس اور وائی ایکسز میں ایک تیسرے ایکسز ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یعنی زیڈ ایکسز کا ہمارے دماغ نے خود سے اضافہ کردیا۔
یہ بعید نہیں کہ بیرونی کائنات حقیقت میں بھی کوئی ٹو ڈائمینشنل تصویر ہی ہو۔ بلکہ جدید ترین فزکس کا ایک نظریہ یہ بھی ہے کہ ہم سب تھری ڈائیمنشنل ہالوگرام میں موجود ہیں جبکہ ہماری حقیقت کسی ٹو ڈائمینشل سطح پر لکھی ہوئی ہے مثلا ہوسکتاہے کہ بلیک ہول کی بیرونی پرت پر انفارمیشن رہ جاتی ہو جو تھری ڈی کا ہالو گراف بناتی ہو۔ پھر یہ تو سراب سا ہوا نا۔چنانچہ یہ تو ہمارے ذہن کی فیکلٹی ہے جس نے ہمیں تھری ڈائمنشنل تصویر دکھا رکھی ہے۔ ہم کیسے جانتے ہیں کہ ہماری ناک اور چہرہ تھوڑا سا آگے کو نکلا ہوا ہوتاہے۔ کیونکہ ہم اپنے ہاتھ سے اپنی ناک اور چہرے کو متعدد بار چھوچکے ہوتے ہیں۔ اور ہمارے لمس کی حس آنکھ سے دیکھی ہوئی تصویر میں ایک انوکھے خیال یعنی زیڈ ایکسز کا اضافہ تخلیق کرلیتی ہے۔ ہم سامنے میز پر پڑی ہوئی چیز کو آگے ہاتھ بڑھا کر اُٹھاتے ہیں۔ ہم گویا اُس ٹو ڈائمینشنل تصویر میں ہاتھ ڈال دیتے ہیں جو ہمارے دماغ نے ہمیں دکھا رکھی ہے
ادریس آزاد

0 تبصرے:

ایک تبصرہ شائع کریں

اردو میں تبصرہ پوسٹ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کر دیں۔