چکن پاکس، خسرہ منطقہ کے وائرس کی ایک قسم ہے جس سے ہم میں سے اکثریت کا واسطہ بچپن میں پڑا ہے۔ زیادہ تر دس برس سے کم عمر بچوں میں یہ بیماری پائی جاتی ہے، یہ وائرس کھانسی، چھینکنے یا مشترک چیزوں کے استعمال کی منتقلی سے پھیلتا ہے، اسی وجہ سے اسکول اس کے پھیلانے کی اہم جگہ ہیں۔
سب سے زیادہ مشہور علامات میں کھجلانے والے سرخ نشانوں کا ظہور ہے، جن کا حجم 10-20 ملی میٹر (0.4-0.8 انچ) کا ہوتا ہے۔ ان کی حد متغیر ہو سکتی ہے تاہم زیادہ تر صورتوں میں یہ چہرے، بازوؤں، ٹانگوں، پیٹ اور پیٹھ کو ڈھانک لیتے ہیں۔ یہ سیال سے بھرے چھالوں کی صورت اختیار کر لیتے ہیں اور اکثر بخار بھی ان کے ساتھ ہی آتا ہے۔ چھالے پھٹ جاتے ہیں اور کھرنڈ بن کر چند دنوں میں ہی گر جاتے ہیں، تاہم ان کی جگہ لینے کے لئے نئے نشانوں کی لہر آ جاتی ہے، عام طور پر جسم کو دوبارہ صحتیاب ہونے کے لئے ایک سے دو ہفتے کا عرصہ درکار ہوتا ہے۔ خسرہ شاذ و نادر ہی سنگین صورتحال اختیار کرتی ہے لیکن اہم بات یہ ہے کہ ان نشانوں کے کھرنڈ سے زیادہ چھیڑ چھاڑ نہ کی جائے کیونکہ اس سے یہ متعدی مرض مزید خطرناک ہو جاتا ہے۔
ویکسین صرف انتہائی حالات میں اس وقت استعمال کی جاتی ہے جب کسی فرد کا مدافعتی نظام کمزور ہوتا ہے یا وہ خاص طور پر بیماری کا شکار ہو سکتا ہے۔
پھیلنے کے بعد، خسرہ مکمل طور پر غائب نہیں ہو جاتی۔ بیماری آپ کے جسم میں خوابیدہ حالت میں ہوتی ہے کیونکہ آپ کے حفاظتی نظام نے اس کو لپیٹ لیا ہوتا ہے۔ متعدی بیماری دوبارہ سے لوٹ آ سکتی ہے اور داپھڑ کی صورت میں ظاہر ہوتی ہے۔ اکثر 50 برس کے بعد کے لوگوں میں داپھڑ جسم کے مخصوص حصّوں میں بن جاتا ہے اور علامات واپس آ جاتی ہیں۔ اوسطاً ہر سال برطانیہ میں ہر 1,000 میں سے تین لوگ اس سے متاثر ہوتے ہیں۔
مزید جانئے:
http://www.jahanescience.com/…/how.it.works.issue.59.chicke…
#جہان_سائنس #اردو #سائنس #ترجمہ #سمجھیں_ان_کے_کام_کو #خسرہ #چکن_پاکس #وبائی_امراض #بیماری #مرض #متعدی_امراض
#jahanescience
سب سے زیادہ مشہور علامات میں کھجلانے والے سرخ نشانوں کا ظہور ہے، جن کا حجم 10-20 ملی میٹر (0.4-0.8 انچ) کا ہوتا ہے۔ ان کی حد متغیر ہو سکتی ہے تاہم زیادہ تر صورتوں میں یہ چہرے، بازوؤں، ٹانگوں، پیٹ اور پیٹھ کو ڈھانک لیتے ہیں۔ یہ سیال سے بھرے چھالوں کی صورت اختیار کر لیتے ہیں اور اکثر بخار بھی ان کے ساتھ ہی آتا ہے۔ چھالے پھٹ جاتے ہیں اور کھرنڈ بن کر چند دنوں میں ہی گر جاتے ہیں، تاہم ان کی جگہ لینے کے لئے نئے نشانوں کی لہر آ جاتی ہے، عام طور پر جسم کو دوبارہ صحتیاب ہونے کے لئے ایک سے دو ہفتے کا عرصہ درکار ہوتا ہے۔ خسرہ شاذ و نادر ہی سنگین صورتحال اختیار کرتی ہے لیکن اہم بات یہ ہے کہ ان نشانوں کے کھرنڈ سے زیادہ چھیڑ چھاڑ نہ کی جائے کیونکہ اس سے یہ متعدی مرض مزید خطرناک ہو جاتا ہے۔
ویکسین صرف انتہائی حالات میں اس وقت استعمال کی جاتی ہے جب کسی فرد کا مدافعتی نظام کمزور ہوتا ہے یا وہ خاص طور پر بیماری کا شکار ہو سکتا ہے۔
پھیلنے کے بعد، خسرہ مکمل طور پر غائب نہیں ہو جاتی۔ بیماری آپ کے جسم میں خوابیدہ حالت میں ہوتی ہے کیونکہ آپ کے حفاظتی نظام نے اس کو لپیٹ لیا ہوتا ہے۔ متعدی بیماری دوبارہ سے لوٹ آ سکتی ہے اور داپھڑ کی صورت میں ظاہر ہوتی ہے۔ اکثر 50 برس کے بعد کے لوگوں میں داپھڑ جسم کے مخصوص حصّوں میں بن جاتا ہے اور علامات واپس آ جاتی ہیں۔ اوسطاً ہر سال برطانیہ میں ہر 1,000 میں سے تین لوگ اس سے متاثر ہوتے ہیں۔
مزید جانئے:
http://www.jahanescience.com/…/how.it.works.issue.59.chicke…
#جہان_سائنس #اردو #سائنس #ترجمہ #سمجھیں_ان_کے_کام_کو #خسرہ #چکن_پاکس #وبائی_امراض #بیماری #مرض #متعدی_امراض
#jahanescience
0 تبصرے:
ایک تبصرہ شائع کریں
اردو میں تبصرہ پوسٹ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کر دیں۔