ہفتہ، 21 اکتوبر، 2017


کوانٹم کی بنیاد ڈالنے والے مشہور سائنس دان کے بارے میں آپ کیا جانتے ہیں؟
کوانٹم طبیعیات کا بانی، میکس پلانک 20 ویں صدی کے نمایاں نظر طبیعیات دانوں میں سے ایک ہے جس کے کام نے سائنس کے ایک نئے دور کی شروعات کی۔
اگر 20 ویں صدی کے ان دو سائنس دانوں کا انتخاب کرنا ہو جس کے کام اور دریافت نے دھوم مچا دی، تو پہلا تو البرٹ آئنسٹائن ہوگا لیکن دوسرا پلانک ہی ہوسکتا ہے۔ آئن سٹائن کے نظریہ اضافیت نے انسانوں کے زمان و مکان کو سمجھنے کی تفہیم میں انقلاب برپا کردیا، جبکہ نظری طبیعیات دان پلانک کی بنائی ہوئی کوانٹم طبیعیات نے جس میں ایٹمی اور ذیلی جوہری ذرّات پر اس کے کام نے طبیعیات کی تفہیم کی بنیاد ہی بدل دی اور اسی کی بدولت براہ راست دوسری کئی دریافتیں اور ایجادات ہوئیں جن کا اب بھی عالمگیری اثر موجود ہے۔
آسانی کے ساتھ یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ پلانک کی سب سے اہم دریافت یہ تھی کہ اس نے سمجھ لیا تھا کہ برقی مقناطیسی امواج کی توانائی ناقابل تقسیم "کوانٹا" بنڈلوں میں موجود ہوتی ہے جو یا تو مکمل خارج یا مکمل جذب ہوتی ہے۔ اس کو عام طور پر پلانک کا بلیک باڈی ریڈی ایشن کا قانون کہا جاتا ہے، اور جیسا کہ اس کی آگے چل کر ہم وضاحت کریں گے جس میں دیکھا جاسکتا ہے کہ یہ کتنا سادہ اور واضح کردینے والا ہے۔
بہرحال 1900ء میں جب پہلی بار پلانک نے اپنی تحقیقات کو پیش کیا تو اس کی تجویز پہلی نظر میں براہ راست پوری کلاسیکل طبیعیات سے ٹکراتی نظر آتی تھی۔ پلانک کو خود بھی یقین نہیں تھا کہ اس کا قانون درست ہوسکتا ہے، اس نے تذبذب کے ساتھ دماغ کو ٹھنڈا رکھتے ہوئے نتیجہ نکالا تھا۔
اس کی ناقابل یقین دریافت کو مروجہ سائنسی ترویج نے قبولیت نہیں دی تھی۔ بعد میں جب آئن سٹائن نے خود سے کوانٹا کے تصور کو لیا اور بعد میں جب موج-ذرہ کے دہرے نظریے کو متعارف کروایا تب جاکر اس کو مقبولیت حاصل ہوئی۔ اس کے بعد پلانک کو ایک خدا داد صلاحیت کے مالک کے طور پر دیکھا جانے لگا جو وہ ویسے بھی ہمیشہ سے تھا، اور پھر وہ ابتدائی 20 ویں صدی کے سب سے زیادہ با اثر سائنس دانوں میں سے ایک بن گیا۔
مزید تفصیلات کے لئے دیکھئے:
http://www.jahanescience.com/…/how.it.works.issue.53.max.pl…
#جہان_سائنس #اردو #سائنس #ترجمہ #سمجھیں_ان_کے_کام_کو #میکس_پلانک #سائنس_کے_ہیرو #سائنس_دان
#jahanescience

0 تبصرے:

ایک تبصرہ شائع کریں

اردو میں تبصرہ پوسٹ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کر دیں۔