جمعرات، 2 نومبر، 2017


بچوں کو لکھنا کیسے سکھائیں؟؟؟

چھوٹے بچوں کو لکھائ سکھانا ایک مشکل امر ہے۔ اور مقابلے کے اس دور میں جب آپکے اندر جتنی صلاحیتیں ہوں کم ہے۔ والدین اپنے بچوں کی بہت سی مشکلوں کو اپنی سوجھ بوجھ سے آسان کر سکتے ہیں۔
عام طور پہ دوسال سے اوپر کے بچے پینسل پکڑنے کے قابل ہو جاتے ہیں۔ انہیں رنگوں کی مومی پینسلیں لے دیں۔ خیال رکھیں کہ ڈبے پہ اسکے زہریلے نہ ہونے کے متعلق لکھا ہو۔ جب آپ ان سے ان پینسلوں کے ذریعے کام کرائیں تو انکے ساتھ موجود رہیں۔ مبادا وہ انہیں کھالیں۔ چاہے یہ زہریلے نہ بھی ہوں تب بھی انکا کھانا درست نہیں ہے۔ انہیں اپنی مرضی سے لائینیں لگانے دیں۔ چاہیں تو خود کر کے بتاتے رہیں کہ یہ ایک دائرہ ہے اور یہ ایک سیدھی لائن اور یہ ایک تکون ہے اور یہ ایک چوکور۔ دلچسپی کے لئے ان ساختوں میں آنکھ ناک بنادیں، انہیں کوئ نام دے دیں۔ یا رنگ بھر دیں

اب جبکہ وہ ان مومی پینسلوں سے کاغذ پہ آڑھی ترچھی لائینیں بنانے لگیں ہیں تو آپ یہ کر سکتے ہیں کہ ایک ٹرے میں کچھ ریت یا اگر وہ میسر نہ ہو تو خشک آٹا پھیلادیں اور اس پہ انگلی کی مدد سے دائرہ اور سیدھی لائینز بنانے کی مشق کرائیں۔ مٹائیے پھر بنائیے۔ یہ ذہن میں رہنا چاہئیے کہ دائرے اور سیدھی لائینیں ہی تحریر کی طرف پہلا قدم ہیں۔

چند دن دیجئیے جب وہ ان پینسلوں کو بھی پکڑنے لگیں گے تو آپ محسوس کریں گے کہ وہ پینسل کو اتنا دباءو دے کر نہیں لکھتے۔ تو اب تربیت کے اگلے مرحلے پہ چلتے ہیں۔ آپکے گھر میں ایسے کھلونے یا چھوٹے چھوٹے برتن ہونگے یا پھر اسٹیشنری کی دوکان سے ایسی چیزیں بآسانی مل جائیں گی کہ انکے گرد پینسل گھما کر ڈیزائن بنایا جا سکے یا انکے اندر سطح کے ساتھ پینسل سے نشان لگایا جا سکے۔ اور کچھ نہیں تو انکے ہاتھوں اور پیروں کے گرد پینسل سے نشان لگا کر ڈیزائین بنایا جا سکتا ہے۔ پینسل انکے ہاتھ میں دیکر یہ کام کروائیں۔ خیال رکھیں کہ یہ ساختیں مختلف شکل کی ہوں۔ یعنی گول، چوکور، مستطیل، تکونی، اس طرح انکا ہاتھ مختلف زاویوں پہ گھومے گا۔ بناتے وقت ان ساختوں کے نام بھی لیتے رہیں کچھ دنوں میں وہ اسکے ماہر ہو جائیں گے۔ اور اس سے انکی انگلیاں اور کلائیاں مضبوط ہونگیں اور وہ پپینسل پہ زیادہ دباءو ڈالنے کے قابل ہو جائیں گے۔

ایک میز پہ شیشہ بچھا دیا ہے جس سے آرپار دیکھا جا سکتا ہے۔ اسکے نیچے مختلف حروف اور نمبر کے پرنٹ نکال کر لگا دئیے ہیں اور اس طرح شیشے کے اوپر سے وائٹ بورڈ مارکر یا ایسے مارکر جو پانی سے صاف ہوجاتے ہیں ان پہ لکھنے سے تحریر میں روانی پیدا ہوتی ہے۔ آپ کے لئے آسانی ہو تو آپ بھی یہ کر سکتے ہیں۔ اگر گھر میں شیشہ نہیں ہے تو ایک چھوٹا سا شیشے کا ٹکڑا لیکر کہیں بھی لگا لیں۔ اور ایک لمبے عرصے تک چلنے والی سلیٹ تیار ہے

۔
مونٹیسوری تربیت میں پہلے لوئر کیس کے یعنی انگریزی کے اسمال لیٹرز پہلے سکھائے جاتے ہیں اور اپر کیس یعنی کیپیٹل لیٹرز بعد میں۔
ان حروف کو بنانے میں انکے گھماءو کے لئے تیر کے نشان دکھائے گئے ہیں انہیں یاد کر لیجئیے۔ آپ دیکھیں گے زیادہ تر گولائیاں کو ضد گھڑی وار طریقے سے بنایا گیا ہے۔ اردو حروف کو بناتے ہوئے یہ عمل عام طور پہ الٹا ہو جاتا ہے اور زیادہ تر گولائیاں گھڑی وار طریقے سے بنائ جاتی ہیں۔ تمام سیدھی لائنیں اوپر سے نیچے کی طرف بنائ جاتی ہیں۔ یہ اصول بچوں کو تحریر کے راز سمجھنے میں آسانی دیتے ہیں اور تھوڑی مشق سے خود سے چیزیں کرنے کے قابل ہو جاتے ہیں۔ شروع میں انہیں انہی آصولوں کا پابند بنائیے تاکہ وہ بنیادی تحریر سیکھ لیں۔ اس مرحلے پہ انہیں لائینوں والی کاپی استعمال کروائیں تاکہ حرف کا سائز انکے ذہن میں پختہ ہو۔ ہر حرف کو لکھتے وقت اسکا نام لیں تاکہ وہ اسے پہچان لیں۔

بچے جب بنیادی تحریر سیکھ لیتے ہیں تو آپ انکو تحریر کو مزید خوبصرت کرنے کے لئے خوشخطی کی مشقیں کروا سکتے ہیں۔ جیسے انگریزی حروف کو لکھنے کے لئیے ایک طریقہ کرسو تحریر کا کہلاتا ہے اس میں حروف نیچے دی گئ تصویر کی طرح لکھے جاتے ہیں۔

آخیر میں یہ کہ اپنے بچوں کے سیکھنے کے عمل کو دلچسپ بنائیے، اور انکے اوپر بوجھ نہ بنائیں۔ زندگی کو ایک دفعہ پھر ایک بچے کی حیثیت سے انکے ساتھ گذاریں۔ یہ آپکی تخلیقی صلاحیتوں کو آب حیات دے گا۔

مزید معلومات کے لئے یہ لنک وزٹ کریں
http://www.tooter4kids.com/…/teaching_your_child_to_write.h…

0 تبصرے:

ایک تبصرہ شائع کریں

اردو میں تبصرہ پوسٹ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کر دیں۔